چرچ مں خودکش بم دھماکہ اور مصری حکومت کی طرف سے سخت اقدامات
قاہرہ: محمد عبدہ حسنین کل اعلان کیا گیا کہ پرسوں ایک خود کش حملہ آور نے قاہرہ کے مرکزی حصہ میں واقع "پٹرین” نامی چرچ کے اندر خود کو بم دھماکہ سے اڑا لیا اسلئے مصر نے دہشت گردی کے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لئے اور سخت اقدامات کرنے کا ارادہ […]

قاہرہ: محمد عبدہ حسنین
کل اعلان کیا گیا کہ پرسوں ایک خود کش حملہ آور نے قاہرہ کے مرکزی حصہ میں واقع "پٹرین” نامی چرچ کے اندر خود کو بم دھماکہ سے اڑا لیا اسلئے مصر نے دہشت گردی کے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لئے اور سخت اقدامات کرنے کا ارادہ کیا ہے۔
صدر عبدالفتح السیسی نے بم دھماکہ میں ہلاک شدگان 42 عيسائى افراد کے سرکاری فوجی جنازہ کے فورا بعد کہا کہ 22 سالہ محمود شفیق محمد مصطفی نامی نوجوان نے چرچ کے نماز ہال کے اندر خود کو دھماکہ سے اڑا لیا۔ انہوں نے حملہ میں ملوث تین افراد اور ایک عورت کی گرفتاری کا انکشاف بھی کیا ہے اور یہ بھی کہا کہ مزید دو افراد کی تلاش جاری ہے ۔
کسی تنظیم نے اب تک اس حادثہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ اسی طرح "حسم” اور "لواء الثورہ” نامی تحریکوں نے بھی اس حادثہ کا تعلق "اخوان المسلمون” کے ساتھ خیال کئے جانے کی تردید کی ہے اور کل اپنے ایک بیان میں کہا کہ وہ شہریوں کو نشانہ نہیں بناتے ہیں۔
اس حادثہ کے پیش نظر دہشت گردی کے معاملہ میں قانونی چارہ جوئی کے اقدامات کو تیز کرنے کے لئے مصری پارلیمنٹ نے قانونی ترمیم کا ارادہ کیا ہے۔
پارلیمنٹ کے صدر ڈاکٹر علی عبد العال نے کل ایک عوامی جلسہ کے دوران کہا کہ پارلیمنٹ ضروری قوانین اور اقدامات کے ذریعہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لئے پر زور ديتا ہے یہاں تک کہ اگر دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لئے آئین میں ترمیم کی ضرورت محسوس کی جائے گی تو ویسا ضرور کیا جائے گا اور حقیقی طور پر فوجی عدالت کو دہشت گردی کے جرائم کے سلسلہ میں غور وفکر کرنے کی اجازت دی جائے گی۔