شام کے اہم دھڑے تشدد پسند گروپ میں شامل
روس کی یہاں امن کے نفاذ کی کوششیں – اور اپوزیشن کا سلیمانی کے دورہ اور ایرانی رکاوٹوں پر احتجاج بيروت: ثائر عباس - ماسكو: طہ عبد الواحد بشار الاسد کی حکومت کے ہاتھوں حلب کے زوال کے نتائج کا سامنا کرتے ہوئے، "فتح شام (سابقہ نصرت) اور آزاد شام” نامی دونوں […]
روس کی یہاں امن کے نفاذ کی کوششیں – اور اپوزیشن کا سلیمانی کے دورہ اور ایرانی رکاوٹوں پر احتجاج

بيروت: ثائر عباس - ماسكو: طہ عبد الواحد
بشار الاسد کی حکومت کے ہاتھوں حلب کے زوال کے نتائج کا سامنا کرتے ہوئے، "فتح شام (سابقہ نصرت) اور آزاد شام” نامی دونوں فرنٹ شمالی شام میں ریاست کی مانند وجود کا اعلان کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
شامی اپوزیشن کے ذرائع نے "الشرق الاوسط” سے کہا کہ مسلسل وسیع تر اجلاسوں کے بعد شمالی شام میں باہمی ضم ہونے کے فارمولے پر اتفاق کیا گیا، اور (14) دھڑوں کو ختم کر کے ایک نئی تنظیم میں ضم کر دیا گیا ہے جسے "شامی اسلامی ادارہ” یا "ابھرتی ہوئی مملکت” کا نام دیا گیا ہے، جس کے جنرل کمانڈر "ابو عمار تفتناز” (آزاد شام کے لیڈر) اور عسکری لیڈر "ابو محمد الجولانی” (فتح شام کے لیڈر) اور شوری کونسل کے چیئرمین "توفیق شھاف الدین” (کتائب الزنکی کے لیڈر) ہونگے۔
دوسری جانب، جبکہ مشرقی حلب سے مسلحہ عناصر اور شہریوں کے انخلاء کا عمل جاری ہے وہیں گورنریٹ ادلب میں دو شیعہ گاؤں الفوعہ اور کفریا میں زخمیوں کے انخلاء کے بارے میں حتمی سمجھوتہ ناپید ہے، اپوزیشن نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ حلب میں محصور افراد کے انخلاء میں رکاوٹ ڈال رہا ہے، انہوں نے ایران کی "القدس فورس” کے کمانڈر "جنرل قاسم سلیمانی کے شہر کا دورہ کرنے پر شدید احتجاج کیا اور اسے اشتعال انگیز امر قرار دیا۔
دریں اثناء، ماسکو نے شام میں حتی المقدور امن کو نافذ کیا۔ جینوا میں اقوام متحدہ کے دفتر میں روس کے نمائندے "الیکسی بورودافکین” نے دھمکی آّمیز لہجہ میں کہا کہ "اگر اقوام متحدہ نے شام پر مذاکرات کے راؤنڈ کا جلد ہی انعقاد نہ کیا کہ جس میں مذاکراتی سپریم کمیشن کی شرکت قابل اہم نہیں ہے، تو اعتدال پسند قومی اپوزیشن اور شامی حکومت اقوام متحدہ کے بغیر اپنی وسعت کے مطابق متفق ہو جائیں گے۔