خامنائی کے دفتر کے قریب فضاء میں منڈلاتے ہوئے ڈرون جہاز کی وجہ سے تہران میں تشویش
لندن: الشرق الاوسط” کل ایرانی رہبر اعلی علی خامنائی کے دفتر کے قریب ایک ڈرون جہاز کے پہنچنے کی وجہ سےتہران میں حکمرانوں کی تشویشیں بڑھ گئیں۔ پاستور نامی اسٹریٹجک علاقہ کے قریب ہوتے ہی جہاز پر زبردست آتش زنی کی گئی پھر اسے ایئر ڈیفنس کے ذریعہ گراد یا […]

لندن: الشرق الاوسط”
کل ایرانی رہبر اعلی علی خامنائی کے دفتر کے قریب ایک ڈرون جہاز کے پہنچنے کی وجہ سےتہران میں حکمرانوں کی تشویشیں بڑھ گئیں۔
پاستور نامی اسٹریٹجک علاقہ کے قریب ہوتے ہی جہاز پر زبردست آتش زنی کی گئی پھر اسے ایئر ڈیفنس کے ذریعہ گراد یا گیا اور یاد رہے کہ اسی علاقہ میں رہبر اعلی خامنائی کا دفتر بھی ہے۔
لیکن بعد میں یہ بات ظاہر ہوئی کہ جہاز کا تعلق فلم کے عملہ سے تھا اور ایک دستاویزی فلم کے لئے چند فوٹیج لے رہا تھا۔
تہران کے سیکورٹی امور کے نائب گورنر محسن ہمدانی نے کہا سرکاری ٹیلی ویژن کا عملہ نماز جمعہ کی فلم بنا رہا تھا لیکن ان کو فضائی حدود میں پرواز کی پابندی کے بارے میں علم نہیں تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دارالحکومت کے مرکز میں جہاز مارچ نے "نو فلائی زون” کا احترام نہیں کیا۔
تہران کے مرکزی حصہ میں واقع پاستور سٹریٹ میں سخت سیکورٹی رہتی ہے کیونکہ اس علاقہ میں اہم سرکاری ادارے ہیں۔ یعنی یہاں ایران کے صدر کا دفتر، ماہرین اور قانونی تحفظ کی کونسل، قومی سلامتی کی سپریم کونسل اور پاسداران انقلاب انٹیلی جنس سینٹر کی قیادت واقع ہے۔