"اوپیک معاہدہ” سے پہلے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہونے کی وجہ سے سعودیہ عرب کی اچھی توقع

خبر: وائل مہدی توقع یہ کی جارہی تھی کہ تیل کی قیمتوں سے متعلق کئے گئے اعلان کیے سلسلہ میں اس سال سعودی بجٹ زیادہ شفاف ہوگا لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ تیل کی قیمت کا مسئلہ تو اگلے سال تک کی بجٹ کا ایک راز ہی معلوم ہو رہا ہے اور […]

"اوپیک معاہدہ” سے پہلے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہونے کی وجہ سے سعودیہ عرب کی اچھی توقع
1111

خبر: وائل مہدی

توقع یہ کی جارہی تھی کہ تیل کی قیمتوں سے متعلق کئے گئے اعلان کیے سلسلہ میں اس سال سعودی بجٹ زیادہ شفاف ہوگا لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ تیل کی قیمت کا مسئلہ تو  اگلے سال تک کی بجٹ کا ایک  راز ہی معلوم ہو رہا ہے اور یاد رہے کہ اسی سعودی بجٹ  کی بنیاد پر بجٹ کے تخمینے کا حساب لگایا جاتا ہے۔

سعودی وزیر پٹرول خالد فالح نے جمعرات کو بجٹ میں تیل کی متعینہ قیمت کے بارے میں کچھ نہیں کہا لیکن انہوں نے صرف اس بات پر اکتفا کیا کہ سعودیہ عرب 2017 کے بجٹ میں تیل کی قیمتوں کے ایک تحفظی  منظر نامہ پر منحصر ہے۔

وزیر نے کہا کہ سعودی عرب تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہونے سے قطع نظر اپنی ترقیاتی منصوبوں میں آگے بڑھتا رہے گا اور اسی طرح انہوں نے اپنی اچھی توقع کا بھی اظہار کیا کہ آنے والے سالوں میں یہ ترقیاتی منصوبیں موجودہ سطح سے بلند ہوں گے۔

"الشرق الاوسط” کو باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ سعودی عرب نے اگلے سال کے بجٹ میں تیل کی قیمت کا حساب فی بیرل 55 ڈالر لگایا ہے اور اسی وجہ سے یہ توقع کی جارہی ہے کہ 2017 میں تیل کی آمدنی 46 فی صد کی زیادتی کے ساتھ  480  ارب ریال (128 ارب ڈالر) ہو جائے گی۔