تباہ شدہ شام میں جنگ بندی کے لیے ماسکو متحرک
بیروت: نذیر رضا روس شام میں انقرہ کے ساتھ ہونے والے فائر بندی معاہدہ کی بین الاقوامی نگرانی کی بنیاد پر کل متحرک ہوا ہے اور اس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اپنے شرکاء سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فائر بندی معاہدہ اور آستانہ میں ہونے والے آئندہ […]

بیروت: نذیر رضا
روس شام میں انقرہ کے ساتھ ہونے والے فائر بندی معاہدہ کی بین الاقوامی نگرانی کی بنیاد پر کل متحرک ہوا ہے اور اس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اپنے شرکاء سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فائر بندی معاہدہ اور آستانہ میں ہونے والے آئندہ امن مذاکرات کی حمایت میں ایک قرارداد پاس کریں۔
روسی سفیر ویتالی چرکن نے صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے روسی اور ترکی منصوبہ بندی کی بنیاد پر "مختصر قرارداد” کو توثیق کے لیے پیش کر دیا ہے جس میں قتل وقتال بند کرنے کی بات کی گئ ہے، اسی طرح اس میں آئندہ جنوری کے اخیر میں آستانہ مذاکرات کا ذکر ہےاور امید ہے کہ ہم متفقہ طور ہفتہ کی صبح تک اسے حاصل کر لیں گے۔
جنگ بندی کا پہلا دن گزر گیا جبکہ جنگ بندی نافذ ہونے کے چند گھنٹے کے بعد حکومتی فورسز اور اتحادی میلیشیاؤں کی طرف سے دمشق اور حماہ کے دیہی علاقوں میں30 خلاف ورزیاں ہوئيں ہیں۔
وادی اور ریف حما کے علاقوں پر فضائی حملہ نے شام میں ان مرکزی جماعتوں کی خاموشی کو مکدر کر دیا جنہوں نے نماز جمعہ کے بعد حزب اختلاف کو مظاہروں میں نکلنے کا موقعہ فراہم کیا تاکہ موجودہ حکومت کے خاتمہ کا مطالبہ کرنے کے لئے مارچ 2011 میں شروع ہوئے پرامن احتجاج کو دوبارہ بحال کیا جا سکے۔