پوٹن معاملہ کی سنگینی سے بچتے ہویے ٹرمپ کی سیاست کے منتظر
ماسکو: طہ عبد الواحد توقعات کے برعکس روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے اس وقت تحمل کا مظاہرہ کیا جب امریکی صدر براک اوباما نے پرسوں سخت اقدامات اٹھاتے ہویے دسیوں روسی سفارتکاروں کو واپس روس بھیج دیا ۔ کل پوٹن نے اعلان کیا کہ روس امریکی سفارت کاروں کو […]

ماسکو: طہ عبد الواحد
توقعات کے برعکس روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے اس وقت تحمل کا مظاہرہ کیا جب امریکی صدر براک اوباما نے پرسوں سخت اقدامات اٹھاتے ہویے دسیوں روسی سفارتکاروں کو واپس روس بھیج دیا ۔
کل پوٹن نے اعلان کیا کہ روس امریکی سفارت کاروں کو واپس ملک نہیں بھیجے گا لیکن انہوں نے پرزور انداز میں یہ کہا کہ روس کو حق حاصل ہے کہ وہ ان پابندیوں کا جواب مناسب انداز میں دے۔ اسی کے ساتھ انہوں اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ ابھی ماسکو کے پاس یہ حق محفوظ ہے لیکن اوباما انتظامیہ کی کاروائیوں کے نتیجہ میں وہ ڈپلومیٹک کچن کی حد تک نہیں جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور روس کے تعلقات کو معمول پر لانے کے لئے اگلے اقدامات امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے پالیسی سے شروع کئے جائیں گے۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کرملین کے سامنے یہ تجویز پیش کی کہ 35 امریکی سفارت کاروں کو واپس بھیج دیا جائے اور انہیں ماسکو کے "سیرے رایانی پورٹ” میں واقع دیہی گھروں کے استعمال کرنے سے منع کر دیا جائے۔