اغو ا شدہ فوجیوں کی فائل کے سلسلہ میں ایک نئے لبنانی سفارشی
بیروت: "الشرق الاوسط” جنرل سیکیورٹی کے سربراہ میجر جنرل عباس ابراہیم نے کل اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ لبنان کے ایک نئے سفارشی نے”داعش” کی طرف سے اگست 2014 میں اغوا کیے گئے 9 لبنانی فوجیوں کی فائل کو حل کرنے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ […]

بیروت: "الشرق الاوسط”
جنرل سیکیورٹی کے سربراہ میجر جنرل عباس ابراہیم نے کل اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ لبنان کے ایک نئے سفارشی نے”داعش” کی طرف سے اگست 2014 میں اغوا کیے گئے 9 لبنانی فوجیوں کی فائل کو حل کرنے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
جنرل ابراہیم نے پرزور انداز میں کہا ہے کہ لبنانی حکومت اس فائل کو ختم کرنے پر مصر ہے۔ انہوں نے اپنی امید کا اظہار کرتے ہویے کہا کہ اس نئے سال میں اغوا کیے گئے 9 لبنانی فوجیوں کی فائل کے حل ہونے کی خوشخبریاں ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ممکن ہے کہ اسم مسئلہ میں وقت بہت لگ چکا ہے لیکن اگر ہم نے اپنے مطلوبہ چیز کو حاصل کر لیا تو پھر وقت کے سلسلہ میں کوئی شکوہ نہیں۔
انہوں نے اس بات کی وضاحت کی کہ ہم اس مسئلہ کو از سرے نو شروع کرنا نہیں چاہتے ہیں۔ اس مسئلہ میں ہمیشہ کئی سفارشی رہے ہیں لیکن آج ایک نئے لبنانی سفارشی ہیں جو اس فائل کو حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور متعدد مشن کو مکمل کرنے کی بھی تکلیف برداشت کررہے ہیں ۔
اسی سے متعلق اغوا شدہ فوجی محمد یوسف کے والد حسین یوسف نے "الشرق الاوسط” سے گفتگو کرتے ہویے بتایا کہ نئے سفارشی کی قیادت میں ثالثی بہت سنجیدہ لگ رہی ہے اور یہ پچھلے سفارشیوں کے مقابلہ میں زیادہ مؤثر اور متحرک وفعال ہیں۔ انہوں اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ موصوف کو یہ فائل ایک ماہ قبل موصول ہوئی ہے لیکن ابھی تک ان کے رابطوں اور کوششوں کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا ہے۔