اصلاح ومرمت کی فقدان کی وجہ سے مصر کی تاریخی یادگاریں خطرے میں
لندن: محمد شافعی مصر سیاحتی آمدنی کی کمی اور سخت اقتصادی بحران کی وجہ سے بے شمار تاریخی یادگاروں کی حفاظت کے سلسلہ میں مشکلات سے دوچار ہے اور اب وزارت آثار قدیمہ عجائب گھر، سیاحتی اور تاریخی علاقوں میں داخل ہونے کی ٹکٹ کو آمدنی کا ایک ذریعہ قرار دینے […]

لندن: محمد شافعی
مصر سیاحتی آمدنی کی کمی اور سخت اقتصادی بحران کی وجہ سے بے شمار تاریخی یادگاروں کی حفاظت کے سلسلہ میں مشکلات سے دوچار ہے اور اب وزارت آثار قدیمہ عجائب گھر، سیاحتی اور تاریخی علاقوں میں داخل ہونے کی ٹکٹ کو آمدنی کا ایک ذریعہ قرار دینے لگی ہے۔
مصری آثار قدیمہ کی حفاظت اور انہیں برقرار رکھنے کے لئے مسلسل اصلاح کی کوششوں کی ضرورت ہے۔ خواہ جیزہ کے اہرامات ہوں یا بالائے مصر میں موجود فراعنہ کی عبادت گاہیں ہوں یا قدیم تاریخی گرجا گھر اور مساجد ہوں تمام تاریخی آثار قدیمہ کی اصلاح کی ضرورت ہے اور یاد رہے کہ اہرامات دنیا کی سات عجوبوں میں ایک عجوبہ ہے۔
آثار قدیمہ کے سابق وزیر "زاہی حواس” نے ایک خطرہ سے آگاہ کیا تھا اور "الشرق الاوسط” سے گفتگو کے دوران اس بات کی طرف اشارہ کیا تھا کہ صورت حال تباہ کن ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مالی وسائل کی کمی کی وجہ سے کسی چیز کی اصلاح نہیں کی جا سکتی ہے۔مرکزی قاہرہ کے تحریر اسکوائر میں واقع مصری میوزیم کو دیکھ لیجئے کہ وہ خالی ہو چکا ہے۔
حواس نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہویے سیاحتی شعبے کی صورت حال کے بہتر ہو نے کی توقع ظاہر کی تھی کہ مصر میں سیاحتی ترقی کی اہم پیش رفت قدیم مصر کے ایک مشہور فرعون "توت عنخ امون” کی سو سالہ تقریب سے پہلے ہو گی۔