استنبول میں گرفتاریوں کی مہم اور حملہ آور لا پتہ

انقرہ: سعید عبد الرازق ترکی حکومت نے استنبول میں نئے سال کے ابتدائی گھنٹوں میں "رینا” نامی کلب پر ہوئے مسلح حملہ کی تحقیقات میں 14مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ بم دھماکہ کرنے والا ابھی تک لا پتہ ہے اور یاد رہے کہ اس بم دھماکہ میں39 افراد […]

استنبول میں گرفتاریوں کی مہم اور حملہ آور لا پتہ
1

انقرہ: سعید عبد الرازق

ترکی حکومت نے استنبول میں نئے سال کے ابتدائی گھنٹوں میں "رینا” نامی کلب پر ہوئے مسلح  حملہ کی تحقیقات میں 14مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ بم دھماکہ کرنے والا ابھی تک لا پتہ ہے اور یاد رہے کہ اس بم دھماکہ میں39 افراد ہلاک اور 65 زخمی ہوئے تھے۔  اسی طرح حکومت نےحزب اختلاف کے ایک رہنما کے خلاف دھمکیوں کے سلسلہ میں معلومات فراہم ہونے کے بعد  ان  کی حفاظت کے لیے ایک بکتر بند گاڑی خاص کی ہے۔

کل استنبول کے "اتاترک” ایئر پورٹ  پر دو غیر ملکی شخص کو گرفتار کیا گیا ہے اور اس کے علاوہ حملہ کے کچھ ہی دیر بعد حکومت نے مزید 12 افراد کو گرفتار کیا ہے جبکہ حملہ آو ر ابھی تک لا پتہ ہے۔

ترکی حکومت نے استنبول میں واقع "تقسیم اسکوائر” میں سیلفی تصویر لینے کے دوران کی ایک ویڈیو کلپ اور کچھ تصویریں شائع کی ہے لیکن یہ نہیں معلوم کہ یہ تصویریں کلب پر حملہ ہونے سے پہلے لی گئیں ہیں یا اس کے بعد لی گئیں ہیں۔

تحقیقاتی ٹیم کی معلومات کی بنیاد پر گواہوں کی باتوں اور میڈیا کے موازنہ سے واضح ہوا ہے کہ حملہ آور شام میں تنظیم  داعش کی صفوں میں لڑنے والا ایک فرد تھا اور اسے ہتھیاروں کے استعمال  اور سڑکوں پر جنگ کرنے کی اعلی قسم کی غیر معمولی تربیت حاصل تھی۔

تفتیش کاروں کو یہ بھی پتہ چلا کہ اس کا تعلق قرغیزستان یا  ازبکستان جیسے وسطی ایشیا کے کسی ایک ملک سے ہے اور "حریت” نامی ترکی اخبار کے مطابق یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس کا تعلق مشرقی ترکستان کے "اويغور” علاقہ سے ہو ۔