افراح شوقی کا اپنےاغوا کرنے والے لوگوں کے ساتھ پریشانی کا بیان
بغداد – موصل: "الشرق الاوسط” عراقی صحافیہ اور سرگرم کارکن افراح شوقی نے اپنے پریشانی کو یوں بیان کیا ہے کہ ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی تھی اور وہ نو دن تک ان کی حراست میں رہیں۔ اس موقعہ سے یہ یاد رہے کہ ان کو 10 دن […]

بغداد – موصل: "الشرق الاوسط”
عراقی صحافیہ اور سرگرم کارکن افراح شوقی نے اپنے پریشانی کو یوں بیان کیا ہے کہ ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی تھی اور وہ نو دن تک ان کی حراست میں رہیں۔ اس موقعہ سے یہ یاد رہے کہ ان کو 10 دن پہلے بغداد میں ان کے گھر سے اغوا کر لیا گیا تھا اور ان اغواکاروں نے انہیں پرسوں رات آزاد کیا ہے۔
کل افراح شوقی نے ایک منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ وہ نودن تک نامعلوم افراد کی حراست میں تھیں جبکہ ان لوگوں نے کہا کہ وہ عراقی حکومت کی انٹیلی جنس کے افراد ہیں۔
افراح شوقی نے کہا کہ وہ پہلے پانچ دنوں تک بہت گھبرائی ہوئی تھیں لیکن پھر بعد میں میں نے ان کے معاملات میں بہتری محسوس کی اور تفتیش کے بعد تو مزید نرمی کا برتاؤ کیا گیا جس کی وجہ سے میں نے محسوس کیا کہ میں باہر نکل جاؤں گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حراست میں ہونے کے دوران صحافتی سرگرمیوں اور تحریروں کے سلسلہ میں بھی تحقیقات کی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں نے ان کے تعامل سے یہ محسوس کیا کہ جن لوگوں نے مجھے آزاد کیا ہے وہ چند افراد تھے جو میری حمایت اور میری رہائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔
دوسری طرف موصل میں عراقی فورسز کی پیش رفت کے ساتھ ساتھ نقل مکانی کی مہم بھی تیز ہو گئی ہے۔ اقوام متحدہ نے کل اعلان کیا ہے کہ روزانہ دو ہزار سے زائد عراقی شہری شہر سے فرار ہو رہے ہیں جبکہ ایک ہفتہ پہلے کی صورتحال یہ تھی کہ روزانہ کی تعداد صرف چند سو تک تھی۔