"ایمنسٹی انٹرنشنل” تنظیم کی طرف سے "الحشد” پر جنگی جرائم کے الزام عائد
اربیل: "الشرق الاوسط” کل شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں "ایمنسٹی انٹرنیشنل” تنظیم نے "الحشد الشعبي” نامی جماعت پر جنگی جرائم کے ارتکاب کا الزام عائد کیا ہے اور عراق کو ہتھیار فراہم کرنے والے ممالک کو دعوت دی ہے کہ وہ اسلحہ کی منتقلی، اس کی ذخیرہ اندوزی اور اس

اربیل: "الشرق الاوسط”
کل شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں "ایمنسٹی انٹرنیشنل” تنظیم نے "الحشد الشعبي” نامی جماعت پر جنگی جرائم کے ارتکاب کا الزام عائد کیا ہے اور عراق کو ہتھیار فراہم کرنے والے ممالک کو دعوت دی ہے کہ وہ اسلحہ کی منتقلی، اس کی ذخیرہ اندوزی اور اس کی تقسیم کے کاموں پر زیادہ سخت قانون لگائیں۔
تنظیم نے فرانس نیوز ایجنسی کے حوالہ سے اپنی رپورٹ میں کہا کہ شیعہ اکثریت پر مشتمل، "الحشد الشعبي” نامی جماعت کے سایہ میں کام کرنے والی نیم فوجی میلیشیاؤں نے سزا کے خوف کے بغیر عدالت کے دائرے سے باہر نکل کر ہزاروں مردوں اور نوجوانوں کو اغوا کیا، ان کو سزائیں دی، حقوق انسان اور بین الاقوامی انسانی قوانین کو پامال کیا، اسی طرح جنگی جرائم کا بھی ارتکاب کیا۔
رپورٹ میں "عراق: "الحشد الشعبي” کے مسلح میلیشیاؤں سے آنکھیں بند” کے عنوان سے کہا گیا ہے کہ ان ملیشیاؤں کے پاس کم از کم 16 ممالک کے تیار شدہ ہتھیار موجود ہیں۔ ان میں چھوٹے ہتھیار، ہلکے ہتھیار، میزائل، توپ خانے کے نظام اور چینی، یورپی، عراقی، ایرانی، روسی اور امریکی بکتر بند گاڑیاں بھی ہیں۔