ازمر میں ایک دوسرا کار بم دھماکہ اور استنبول کے حملہ آور کا تعلق اویغور سے
انقرہ: سعید عبد الرازق ترکی کے ازمیر کے علاقہ میں ایک نیا دہشت گردانہ حملہ ہوا جبکہ ترکی حکومت ابھی تک استنبول میں واقع "رینا” کلب پر ہوئے مسلح دہشت گردانہ حملہ کی تحقیقات کر رہی ہے۔ 2017 کے ابتدائی گھنٹے میں ترکی کو ہلا کر رکھ […]

انقرہ: سعید عبد الرازق
ترکی کے ازمیر کے علاقہ میں ایک نیا دہشت گردانہ حملہ ہوا جبکہ ترکی حکومت ابھی تک استنبول میں واقع "رینا” کلب پر ہوئے مسلح دہشت گردانہ حملہ کی تحقیقات کر رہی ہے۔
2017 کے ابتدائی گھنٹے میں ترکی کو ہلا کر رکھ دینے والے استنبول کے خونریز حملہ کے صرف چار دن کے بعد ہی مغربی ترکی کے ازمیر علاقہ میں کل ایک نیا دھماکہ مختلف انداز سے ہوا جس میں کار بم، گرینیڈ اور کلاشنکوف کا استعمال کیا گیا ہے لیکن سیکورٹی فورسز کی مداخلت سے ایک دوسرے قتل عام کو روکا گیا ہے اور اس حملہ میں ایک پولیس اہلکار کے شہید ہونے، ایک دہشت گرد کے ہلاک ہونے اور سات لوگوں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔
نائب وزیر اعظم ویسی کائناک نے ازمیر کے موقعۂ واردات پر پائے جانے والے ہتھیاروں کی مقدار کو دیکھتے ہویے کہا کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ منصوبہ بہت بڑا تھا اور یہ کار بم ایک ہی نہیں تھا کیونکہ انٹلیجنس نے اس کے علاوہ ایک دوسرے کار بم کو اڑایا بھی ہے۔