موصل میں فوج "داعش” کی لیبارٹری کو نشانہ بنا رہی ہے

تیل اور سرحدی راستوں کے بارے میں عراقی اور اردنی وزرائے اعظم کے مذاکرات   موصل: "الشرق الاوسط” عراقی افواج نے موصل یونیورسٹی پر کاروائی کی، جہاں پر تنظیم داعش کی لیبارٹری ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دریائے دجلہ؛ جو کہ شہر کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے، اس کے مشرقی ساحل پر […]

موصل میں فوج "داعش” کی لیبارٹری کو نشانہ بنا رہی ہے
تیل اور سرحدی راستوں کے بارے میں عراقی اور اردنی وزرائے اعظم کے مذاکرات
ae5jusw56ie57ie567ie67ijj

موصل: "الشرق الاوسط”

عراقی افواج نے موصل یونیورسٹی پر کاروائی کی، جہاں پر تنظیم داعش کی لیبارٹری ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دریائے دجلہ؛ جو کہ شہر کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے، اس کے مشرقی ساحل پر پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہے۔

موصل میں افسران نے اعلان کیا ہے کہ کل انسداد دہشت گردی کی افواج نے تنظیم داعش کی جانب مزید پیش قدمی کی اور بحری جہازوں کے لنگر انداز ہونے کی فوجی یونٹوں کے قریب پہنچ گئی۔ اخباری ایجنسی "رویٹرز” نے انسداد دہشت گردی کے ادارے کے ترجمان کے بیان کو نقل کیا کرتے ہوئے کہا کہ بلدیات نامی محلے کے قریبی علاقوں کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد شہر کے شمال مشرقی علاقے میں موصل یونیورسٹی کی نگرانی والے علاقوں کو کنٹرول لینے کی کوششیں جاری ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ "بلدیات” پر کنٹرول مکمل ہو چکا ہے۔ اب "سکر” محلے کا تقریبا ایک چوتھائی حصہ رہ گیا ہے”۔ مزید کہا گیا کہ یہ علاقہ اہم ترین ہے کیونکہ اس سے یونیورسٹی پر کنٹرول کیا جا سکتا ہے جو یہاں کا مرکزی علاقہ ہے۔ اگر ہم نے یونیورسٹی پر کنٹرول حاصل کر لیا تو ہم جنگلوں اور صدارتی محلات پر قبضہ کر سکتے ہیں”۔ ترجمان کے مطابق "داعش” نے یونیورسٹی کی لیبارٹری کو جراثیمی ہتھیار کے فروغ اور کیمیکل کو ذخیرہ کرنے کے لئے استعمال کیا۔

دوسری جانب، کل عراقی وزیراعظم  "حیدر العبادی” نے اعلان کیا کہ عراق اردن کے ساتھ نئے سرحدی راستے کھولنے کی کوشش کر رہا ہے۔ العبادی نے بغداد میں اپنے اردنی ہم منصب سے ملاقات کے اختتام پر مشترکہ پریس کانفرنس میں وضاحت کرتے ہوئے کہا : "وہ ترایبیل کراسنگ کو جلد دوبارہ کھولنے کے خواہش مند ہیں”۔ العبادی نے مزید کہا کہ "ہم عراق اور اردن کے مابین تجارت کی حاصلہ افزائی کرتے ہیں”، انہوں نے نشاندہی کی کہ "عراق سے اردن کے لیے تیل کو منتقل کرنے کی پائپ لائن کا توسیع معاہدہ جلد ہی مکمل ہو جائے گا”۔