آبنائے ہرمز میں امریکہ – ایران کشیدگی
نيویارک: جارڈن دقسامہ - واشنگٹن: ہبہ قدسی - رياض: عبد الہادی حبتور پرسوں آبنائے ہرمز کے تنگ راستے میں امریکی جنگی بحری بیڑے اور "پاسداران انقلاب” کے ماتحت ایرانی کشتیاں تیزی سے ایک دوسرے کے انتہائی قریب آ گئیں، جیسا کہ کل امریکہ وزارت دفاع (پینٹاگون) کے ترجمان نے انکشاف کیا۔ [&

نيویارک: جارڈن دقسامہ - واشنگٹن: ہبہ قدسی - رياض: عبد الہادی حبتور
پرسوں آبنائے ہرمز کے تنگ راستے میں امریکی جنگی بحری بیڑے اور "پاسداران انقلاب” کے ماتحت ایرانی کشتیاں تیزی سے ایک دوسرے کے انتہائی قریب آ گئیں، جیسا کہ کل امریکہ وزارت دفاع (پینٹاگون) کے ترجمان نے انکشاف کیا۔
امریکی عہدیدان کے مطابق جنگی بیڑے "یو ایس ایس ماہان” نے ڈرانے کی خاطر ایرانی کشتیوں پر فائرنگ کی اور انہیں دور ہٹنے پر مجبور کر دیا۔ فرانسیسی اخباری ایجنسی کے مطابق ایرانی حملہ آور کشتیوں نے انتہائی تیزی کے ساتھ حملہ کیا تھا۔ ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ ملاح اپنے ہتھیاروں کے سامنے تھے اور امریکی بحری جہاز کے قریب پہنچتے ہی اسے استعمال کرنے کے لئے تیار تھے۔ خلیج اور آبنائے ہرمز کے بین الاقوامی پانیوں میں ایرانی پاسداران انقلاب کی کشتیاں امریکی بحری جہاز کے قریب آتی رہتی ہیں، لیکن نہ تو وہ امریکی بحری جہازوں کے وائر لیس رابطے کا جواب دیتی ہیں اور نہ ہی ان کے ارادوں کا پتہ چلتا ہے۔ کبھی کبھی امریکی بحریہ اس قسم کے حادثات پر باقاعدہ وارننگ بھی دیتی ہے۔