"روسی معلومات” کی بنیاد پر ٹرمپ اور ان کے ایجینسیوں کے درماین کشمکش
واشنگٹن: منیر ماؤری جہاں ایک طرف نومنتخب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو اپنی انتظامیہ میں اعلی عہدوں کے لئے چند لوگوں کے انتخاب کی وجہ سے زبردست حملوں کا سامنا ہے اور ممکن ہے کہ ان حملوں کی وجہ سے ان کی انتظامیہ کی وزارتوں کے لئے ان کی طرف […]

واشنگٹن: منیر ماؤری
جہاں ایک طرف نومنتخب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو اپنی انتظامیہ میں اعلی عہدوں کے لئے چند لوگوں کے انتخاب کی وجہ سے زبردست حملوں کا سامنا ہے اور ممکن ہے کہ ان حملوں کی وجہ سے ان کی انتظامیہ کی وزارتوں کے لئے ان کی طرف سے بعض منتخب کردہ وزیروں کی منظوری روک دی جائے وہیں ان کو دوسری طرف اپنے اور اپنی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے درمیان ایک طرح کی کشمکش کا سامنا ہے کیونکہ انہوں نے انٹیلی جنس ایجنسیوں کی طرف سے من گھڑت رپورٹوں کے افشا کرنے کی وجہ سے ان کے عمل کو شرمناک قرار دیا ہے۔
گزشتہ جولائی کے بعد نو منتخب صدر ٹرمپ نے اپنی پہلی پریس کانفرنس میں کل اس بات کی تردید کی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے روسی بلیک میلنگ کے شکار نہیں ہوئے ہیں اور انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں جو بھی معلومات ہیں وہ صرف ردی کی ٹوکری ہیں اور اسے امریکی انٹیلی جنس کی موصول شدہ رپورٹ میں شامل نہیں ہونا چاہئے تھا۔
انہوں نے روسی بلیک میلنگ کی کہانی نشر والی "CNN” اسٹیشن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس بات کی وضاحت کی کہ انٹیلی جنس رپورٹ میں جو معلومات تھیں وہ سب من گڑھت تھیں، شرم کی بات ہے کہ اس طرح کی معلومات نشر کی جائے، عیب کی بات ہے کہ انٹیلی جنس سروسز اسے ایک سرکاری رپورٹ میں بیان کرے یا ایک ٹی وی نیوز چینل اسے نشر کرے۔