الثنی کی حکومت: پر اسرار انداز میں ایک ہزار امریکی فوجی طرابلس میں داخل

قاہرہ: خالد محمود لیبیا کی پارلیمنٹ کی ہم نوا عبد اللہ الثنی کی حکومت نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ ایک ہزار سے زیادہ امریکی فوجی خلسہ میں داخل ہو چکے ہیں اور دارالحکومت طرابلس کے مضافاتی علاقے میں اپنی پوزیشن لے چکے ہیں۔ الثنی کی حکومت نے ایک بیان […]

الثنی کی حکومت: پر اسرار انداز میں ایک ہزار امریکی فوجی طرابلس میں داخل
3

قاہرہ: خالد محمود

لیبیا کی پارلیمنٹ کی ہم نوا عبد اللہ الثنی کی حکومت نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ ایک ہزار سے زیادہ امریکی فوجی خلسہ میں داخل ہو چکے ہیں اور دارالحکومت طرابلس کے مضافاتی علاقے میں اپنی پوزیشن لے چکے ہیں۔ الثنی کی حکومت نے ایک بیان میں کہا کہ ایک ہزار امریکی فوجیوں کی موجودگی کی اطلاع ملی ہے لیکن ابھی مزید دیگر تفصیلات فراہم نہیں ہو سکیں ہیں    اور یاد رہے کہ اس حکومت کا مرکز البیضاء نامی شہر ہے۔

پارلیمنٹ کی حامی حکومت نے کہا کہ وہ اٹالین فوجیوں کے دستون کے آنے سے حیران ہے اور اسی طرح ان کے پاس خلسہ میں خفیہ طور پر ایک ہزار سے زائد امریکی فوجی کے داخل ہونے کی اطلاع ہے اور وہ فوجی دارالحکومت کے مضافاتی علاقوں میں اپنی پوزیشن لے چکے ہیں اور یاد رہے کہ اس حکومت کا مرکز تبروک ہے۔

لیبیا میں اقتدار کے لئے لڑنے والی تین حکومتوں میں سے ایک الثنی کی حکومت نے کہا کہ لیبیا کی سرزمین پر اٹالین فوجوں کی موجودگی لیبیا کے داخلی امور میں صریح مداخلت ہے اور اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ یہ اقدام  لیبیا پر کھلم کھلا قبضہ کرنے کے مترادف ہے اور لیبیا کے تمام باشندوں کی طرف سے اس کی تردید اور اس کا مقابلہ کیا جائے گا۔

طرابلس میں بین الاقوامی سطح پر غیر تسلیم شدہ نیشنل سالویشن حکومت کی فورسز نے چار نئے وزارتوں کے ہیڈکوارٹر پر قبضہ کر لیا ہے اور اس کاروائی سے شہر کی بگڑتی صورتحال میں اور اضافہ ہوا ہے جبکہ اس شہر میں پہلے ہی سے دو حکومتیں قانونی جواز کی بنیاد پر حکومت کرنے کے سلسلہ میں باہم بر سر پیکار ہیں اور اسی کے ساتھ ساتھ ملک کے مشرقی علاقہ میں ایک تیسری متوازی حکومت بھی ہے۔