بحرین میں 3 شہریوں کو دہشت گردی کی بنا پر سزائے موت
ان کا تعلق ایران سے منسلک تنظیم "سرایا اشتر” سے تھا منامہ: عبید السہیمی کل بحرین نے تین افراد کو سزائے موت دے دی گئی جو کہ ایک بم دھماکہ میں ملوث تھے جس کے نتیجے میں ایک اماراتی پولیس افسر سمیت تین پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ فروری 2011 میں ہونے […]
ان کا تعلق ایران سے منسلک تنظیم "سرایا اشتر” سے تھا

منامہ: عبید السہیمی
کل بحرین نے تین افراد کو سزائے موت دے دی گئی جو کہ ایک بم دھماکہ میں ملوث تھے جس کے نتیجے میں ایک اماراتی پولیس افسر سمیت تین پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ فروری 2011 میں ہونے والے انتشار کے بعد دہشت گردی کے جرم میں کسی بھی شہری کو سزائے موت دینے کا یہ پہلا واقعہ شمار کیا جا رہا ہے۔
دہشت گردی کے جرائم کے چیف پراسیکیوٹر وجنرل وکیل احمد الحمادی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ "الدیہ” علاقے میں پولیس کو نشانہ بنانے کے جرم میں 3 شہریوں کو سزائے موت دی گئی ہے، جس میں 3 پولیس اہلکار "شہید” ہو گئے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سزا پر عمل درآمد؛ سزا دینے والے جج، سرکاری وکیل کے نمائندے، جیل کے وارڈن، ڈاکٹر اور مبلغ کی موجودگی میں، گولی مار کر کیا گیا۔
کیس کے حقائق 3 مارچ 2014 سے ملتے ہیں جب فسادات پھوٹنے کے بعد سیکورٹی فورسز سے مداخلت طلب کی گئی تو اس وقت یہ تین شہری پولیس اہلکاروں کو ورغلا کر جائے وقوعہ پر لائے اور وہاں دھماکہ کر دیا جس سے تین سیکورٹی اہلکار "شہید” اور دیگر 13 زخمی ہوگئے۔
پبلک پراسیکیوشن کی تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ ان تینوں شہریوں کا تعلق تنظیم "سرایا اشتر” سے تھا، جسے بحرین ایک دہشت گرد تنظیم شمار کرتا ہے اور اس کی قیادت ایران میں اپنا ہیڈ کوارٹر بنائے ہوئے ہے۔