"داعش” کے ذریعہ "دیر الزور” نامی شہر اپنے فوجی ہوائی اڈہ سے الگ تھلگ کر دیا گیا
بیروت: یوسف دیاب تنظیم داعش نے شامی حکومت کو ملک کے مشرق میں واقع ان کے قلعہ سے باہر نکالنے کے لئے جاری کارروائی کے تیسرے روز ہونے والی پیش رفت کے بعد "دیر الزور” نامی شہر کو اس کے فوجی اڈہ سے الگ تھلگ کر دیا ہے۔ […]

بیروت: یوسف دیاب
تنظیم داعش نے شامی حکومت کو ملک کے مشرق میں واقع ان کے قلعہ سے باہر نکالنے کے لئے جاری کارروائی کے تیسرے روز ہونے والی پیش رفت کے بعد "دیر الزور” نامی شہر کو اس کے فوجی اڈہ سے الگ تھلگ کر دیا ہے۔
"انسانی حقوق کے شامی مبصر” نے پر زور انداز میں کہا کہ جاری جھڑپوں کی وجہ سے "داعش” نے ایک زبردست پیش رفت کرتے ہوئے ہاؤسنگ پروجیکٹ اور ہوائی اڈے کے ارد گرد کے علاقون پر قبضہ کر لیا ہے اور شہر سے دیر الزور نامی فوجی ہوائی اڈہ کی طرف جانے والی امداد کو ختم کر دیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کی وجہ سے تنظیم شہر کو مشرقی اور مغربی دو حصوں میں تقسیم کر سکتا ہے اور ان دونوں حصوں کے درمیان وہ علاقہ ہے جس کی طرف تنظیم دير الزور نامی شہر کے قریب پہاڑ پر پرسوں قبضہ کرنے کے بعد پیش قدمی کر رہی ہے۔
یہ میدانی پیش رفت اس وقت ہوئی جب 20 اپوزیشن پارٹیوں میں سے سات پارٹیوں نے اگلے ہفتہ آستانہ میں ہونے والے مذاکرات کے لئے انقرہ کے حالیہ اجلاسوں میں اپنے نمائندوں کے ناموں کے ساتھ شرکت کی ہے۔حلب کی اکثر وبیشتر پارٹیوں نے کانفرنس میں شرکت کرنے کے سلسلہ میں اپنی رضامندی کا اعلان کیا ہے لیکن ابھی بھی خاص طور پر ادلب میں فعال پارٹیاں کانفرنس میں شرکت کرنے سے انکار کر رہی ہیں جبکہ انقرہ کی طرف سے ان پر دباؤ ہے اور موسکو کی طرف سے امید افزاں اطلاعات بھی ہیں کہ کانفرنس کے ایجنڈے میں صرف جنگ بندی سے متعلق گفتگو ہوگی، آئندہ شامی حکومت سے متعلق کوئی گفتگو نہیں ہوگی اور نہ ہی جنیوا معاہدوں کے خلاف کوئی سیاسی دستاویز یا مفاہمت کی شکل اختیار کی جائے گی۔