رقہ سے استنبول کے قصاب کو فرمان حاصل اور آخری وقت میں مقصد کی تبدیلی

انقرہ: سعید عبد الرازق شہر استنبول کے اورتاکوی نامی ساحلی علاقہ میں "رینا” کلب پر حملہ کرنے والے عبد القادر نے ترکی پولیس کے ذریعہ گرفتار ہونے کے بعد ایسی معلومات فراہم کی ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا تعلق عراق کے تنظیم داعش سے تھا، اس نے "القاعدہ” […]

رقہ سے استنبول کے قصاب کو فرمان حاصل اور آخری وقت میں مقصد کی تبدیلی
2

انقرہ: سعید عبد الرازق

شہر استنبول  کے اورتاکوی نامی ساحلی علاقہ میں "رینا” کلب پر حملہ کرنے والے عبد القادر نے ترکی پولیس کے ذریعہ گرفتار ہونے کے بعد ایسی معلومات فراہم کی ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا تعلق عراق کے تنظیم داعش سے تھا، اس نے "القاعدہ” کے کیمپوں میں تربیت حاصل کی تھی اور وہ ایران سے لگے ترکی کے مشرقی سرحد کے ذریعہ وہاں داخل ہوا تھا۔ اس نے یہ بھی کہا کہ اس کا مقصد  کلب پر حملہ کرنا نہیں تھا بلکہ اس کا مقصد استنبول کے مرکز میں تقسیم اسکوائر میں حملہ کرنا تھا لیکن تقسیم اسکوائر میں سخت تحفظاتی انتظامات کی وجہ سے اس نے آخری وقت میں اپنا ارادہ بدل دیا اور خون آلود حملہ سے صرف سوا دو گھنٹہ پہلے "رینا” کلب پر حملہ کر دیا جس میں 39 افراد جاں بحق اور 65 زخمی ہوئے تھے۔

ماچاريبوف نے پولیس کے سامنے یہ اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اس نے عراق میں "القاعدہ” کے کیمپوں میں فوجی تربیت حاصل کی تھی پھر اس کے بعد وہ داعش کی صفوں میں شامل ہو گیا  اور اسے نئے سال کی شام ترکی کے اندر ایک دہشت گردانہ حملہ کو انجام دینے کا ذمہ دار بنایا گیا تھا۔

ماچاريبوف نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ وہ ایران کے ذریعہ (ترکی کے مشرقی سرحد) جنوری 2016 میں ترکی آیا تھا اور اس کے بعد مرکزی ترکی کے  قونیہ نامی شہر میں آباد ہو گیا۔