تہران میں ایک عمارت کے منہدم ہونے کے بعد درجنوں فائر فائٹرز کے بارے میں خدشات
جمعہ 22 ربيع الثاني 1438 ہجری 20 جنوری 2017ء شمارہ: (13933) تہران – لندن: "الشرق الاوسط” درجنوں فائر فائٹروں کے بارے میں خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے، جو تہران کے وسط میں ایک 15 منزلہ عمارت کے منہدم ہونے سے پہلے اس میں لگنے والی آگ کو بجھانے کی کوشش کر رہے […]
جمعہ 22 ربيع الثاني 1438 ہجری 20 جنوری 2017ء شمارہ: (13933)

تہران – لندن: "الشرق الاوسط”
درجنوں فائر فائٹروں کے بارے میں خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے، جو تہران کے وسط میں ایک 15 منزلہ عمارت کے منہدم ہونے سے پہلے اس میں لگنے والی آگ کو بجھانے کی کوشش کر رہے تھے۔
ابھی تک تہران کی بلدیہ کے سربراہ محمد باقر قالیباف کےسواء کسی ذمہ دار نے یقین دہانی نہیں کی کہ اس میں کوئی ہلاکت ہوئی ہے یا نہیں۔ بلدیہ کے سربراہ نے سرکاری ٹیلی ویژن پر اپنے بیان میں کہا کہ ان کا خیال ہے کہ عمارت کے منہدم ہونے سے پہلے تقریبا 20 سے 25 فائر فائٹر اس میں موجود تھے۔
سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق گذشتہ صدی کی ساٹھ کی دہائی میں پہلی بلند ترین عمارت میں آگ لگنے پر تقریبا 200 فائر فائٹر کی مدد حاصل لی گئی تھی۔