آج "آستانہ” میں اپوزیشن اور اسد کے وفد آمنے سامنے

دھڑوں کے اہم مطالبات میں فائر بندی کا قیام، خلاف ورزی کی نگرانی اور ماسکو کی غیر جانبداری پیر 25 ربيع الثانی 1438 ہجری­ 23 جنوری 2017ء شمارہ: (13936)   ماسکو: طہ عبد الواحد قازقستانی دارالحکومت آستانہ میں سہ فریق روس، ترکی اور ایران کی زیر نگرانی شامی مسلح اپوزیشن کے دھڑے اور شامی [&hell

آج "آستانہ” میں اپوزیشن اور اسد کے وفد آمنے سامنے
دھڑوں کے اہم مطالبات میں فائر بندی کا قیام، خلاف ورزی کی نگرانی اور ماسکو کی غیر جانبداری
پیر 25 ربيع الثانی 1438 ہجری­ 23 جنوری 2017ء  شمارہ: (13936)
news-220117-2

ماسکو: طہ عبد الواحد

قازقستانی دارالحکومت آستانہ میں سہ فریق روس، ترکی اور ایران کی زیر نگرانی شامی مسلح اپوزیشن کے دھڑے اور شامی حکومت کے مابین پہلے آمنے سامنے مذکرات کا سیشن شروع ہو رہا ہے۔

ان مذاکرات کی نگرانی کرنے والے ممالک کے وفد  نے سہ طرفہ مشاورت کی، جس کے دوران انہوں نے شامی بحران کو حل کرنے کیلئے ایک دستاویز کا مسودہ تیار کیا، اور پھر بعد میں شامی پارٹیوں کے سامنے اسے پیش کیا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ مشاورتیں نگران ممالک کے مابین اختلافات پر قابو پانے میں ناکام رہیں گی۔ لیکن شام کے لئے روسی صدراتی نمائندے اور "آستانہ” میں شریک روسی وفد کے سربراہ الیگزینڈر لافرینتیف نے اس پات پر زور دیا کہ یہ مشاورتی مذاکرات سمجھوتے کی رسائی تک جاری رہیں گے۔ دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ اور "آستانہ” اجلاس میں ایرانی وفد کے سربراہ حسن جابری انصاری نے کہا کہ یہ اجلاس "کسی اتفاق تک رسائی کے لئے نہیں بلکہ دو شامی وفود کے مابین براہ راست مذاکرات ہیں”۔

شام کے دونوں حکومتی اور اپوزیشن کے وفد نے اس بات پر زور دیا کہ مذاکرات میں سب سے پہلے جنگ بندی کے نفاذ پر توجہ دی جائے گی۔ "آستانہ” اجلاس میں شریک قومی اتحاد کے رکن ہشام مروہ نے کہا کہ اپوزیشن وفد فائر بندی کا مطالبہ کرے گا، جس میں بین الاقوامی مبصرین بطور نگران آلۂ کار موجود ہوں۔

اسی ضمن میں اپوزیشن وفد کے سربراہ محمد علوش نے "رویٹرز” ایجنسی سے کہا کہ شامی حکومت اور ایران دونوں اس کوشش کو کمزور کرنا چاہتے ہیں، جبکہ اپوزیشن روس کے غیر جانبدار کردار کامطالبہ کرتی ہے۔