فلسطین کی طرف سے نتنیاہو کے مذاکرات کی شرطیں ناقابل قبول

اسرائیلی شہریوں اور فوجیوں کو نشانہ بنانے والی چار کاروائیاں جمعة ­29 ربيع الثاني 1438 ہجری 27 جنوری 2017 مـ شمارہ نمبر [13940[ رام الله: كفاح زبون کل فلسطینی حکومت نے فلسطین کے باشندوں کے ساتھ اسرائیلی وزیر اعظم نتنیاہو کے دوبارہ مذاکرات کی شرطوں کی مکمل طور پر تردید کی […]

فلسطین کی طرف سے نتنیاہو کے مذاکرات کی شرطیں ناقابل قبول
اسرائیلی شہریوں اور فوجیوں کو نشانہ بنانے والی چار کاروائیاں
جمعة ­29 ربيع الثاني 1438 ہجری 27 جنوری 2017 مـ شمارہ نمبر [13940[
1

رام الله: كفاح زبون

کل فلسطینی حکومت نے فلسطین کے باشندوں کے ساتھ  اسرائیلی وزیر اعظم نتنیاہو کے دوبارہ مذاکرات کی شرطوں کی مکمل طور پر تردید کی ہے اور یہودی حکومت اور ضفہ غربیہ کے علاقوں پر پولس کے مسلسل قبضہ کے سلسلہ میں اسے دھمکی بھی دی ہے اور اس بات کا بھی اظہار کیا ہے کہ فلسطینی عوام کا اسرائیل کو ایک یہودی ملک اور اردن کی نہر سے لے کر بحر متوسط تک کے علاقوں پر اسرائیلی پولس کے قبضہ کو اعتراف کرنا یہ دونوں ایسے بنیادی مسائل ہیں جن سے امن وسلامتی کے مذاکرات کے لئے تنازل اختیار نہیں کیا جا سکتا ہے۔

فلسطینی حکومت نے فوری طور پر ان شرطوں کو بے معنی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ان کا جواب دینا ضروری نہیں ہے۔ فلسطینی وزیر خارجہ ریاض مالکی نے کہا کہ یہ شرطیں غیر موزوں ہیں۔ نتنیاہو کسی بھی فلسطینی کو نہیں پائیں گے خواہ وہ کوئی بھی ہو کہ وہ ان کے ساتھ ان شرطوں کے باوجود تعامل کرنے کے لئے تیار ہو ۔ فلسطینی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ اسے توقع ہے کہ بین الاقوامی برادری احتلال کی حکومت کا پردہ فاش کرے۔

یہ پہلا موقعہ نہیں ہے کہ نتنیاہو یہ اصرار کر رہے ہیں کہ فلسطین کے باشندے ایک یہودی حکومت کا اعتراف کر لیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ضفہ غربیہ میں پولس کے مسئلہ سے ہر گز تنازل اختیار نہیں کریں گے اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے حکومت میں آنے کے بعد یہ اپنی نوع کا ایک پہلا اعلان ہے۔ فلسطین کے باشندے سیاسی، تاریخی اور قانونی وجوہات کی بنا پر اسرائیل کو ایک یہودی ملک کے طور پر اعتراف کرنے سے انکار کرتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ وہ فلسطینی ملک کے قیام کے بعد اس کی سرزمیں پر کسی بھی اسرائیلی فوجی کے وجود کو ہرگز قبول نہیں کریں گے۔