طرابلس کی رات تاریک — لکڑی اور کوئلہ کی واپسی

ہفتہ 30 ربيع الثانی 1438ہجری/ 28 جنوری 2017ء شمارہ نمبر {13941} طرابلس: عبد الستار حتيتہ پاور پلانٹس نے پاور پلانٹس پر حملہ کر کے 77 فیصد بجلی کی شاخوں کو بیکار کر دیا ہے جس کی وجہ لیبیا مکمل طور پر بجلی کے بحران سے دوچار ہے اور دار الحکومت طرابلس کے […]

طرابلس کی رات تاریک — لکڑی اور کوئلہ کی واپسی
ہفتہ 30 ربيع الثانی 1438ہجری/ 28 جنوری 2017ء شمارہ نمبر {13941}
1

طرابلس: عبد الستار حتيتہ

پاور پلانٹس نے پاور پلانٹس پر حملہ کر کے 77 فیصد بجلی کی شاخوں کو بیکار کر دیا ہے جس کی وجہ لیبیا مکمل طور پر بجلی کے بحران سے دوچار ہے اور دار الحکومت طرابلس کے علاقہ میں رات کو بجلیاں نہیں جلتی ہیں اسی لئے وہاں کے باشندے کھانا پکانے اور گرمی حاصل کرنے کے لئے لکڑی اور کوئلہ جلانے پر مجبور ہیں۔

فی الوقت کوئلہ کے گٹھروں کی قیمت 50 دینار سے لے کر 130 دینار تک ہے جبکہ تین مہینہ قبل ان کی قیمت 15 دینار سے 25 دینار کے درمیان تھیں اور ابھی ڈالر کی سرکاری قیمت 4.1 دینار ہے۔

کھانا پکانے کی لکڑی کے گٹھروں کی قیمت30 دینار سے شروع ہوتی ہے اور نوعیت کے اعتبار سے اس میں اضافہ ہوتا ہے۔

اس وقت یہ معمول بن گیا ہے کہ ہر جگہ کوئلہ کی ضرورت کے سلسلہ میں اعلان آویزاں ہے۔ رکن پارلیمنٹ اسماعیل غول شریف نے "الشرق الاوسط” سے کہا کہ کوئلہ سے گرمی حاصل کرنے کی وجہ سے دم گھٹ کر بہت سارے شہریوں کی وفات ہو چکی ہے۔