حوثی کشتیوں کا بحری جہاز پر حملہ اور اتحادیوں کا دو سعودی افراد کی شہادت کا اعلان
حوثیوں کے لئے "صومالی داعش” کے ذریعے ایرانی ہتھیار: اقوام متحدہ کی رپورٹ منگل 4 جمادى الأولى 1438 ہجری 31 جنوری 2017 ء شمارہ: (13944) نيویارک: جوردن دقامسہ کل یمن میں قانونی حکومت کے حمایتی اتحادی قیادت نے اعلان کیا ہے کہ "الحدیدہ” بندرگاہ کے مغربی جانب گشت کے دوران سعود
حوثیوں کے لئے "صومالی داعش” کے ذریعے ایرانی ہتھیار: اقوام متحدہ کی رپورٹ
منگل 4 جمادى الأولى 1438 ہجری 31 جنوری 2017 ء شمارہ: (13944)

نيویارک: جوردن دقامسہ
کل یمن میں قانونی حکومت کے حمایتی اتحادی قیادت نے اعلان کیا ہے کہ "الحدیدہ” بندرگاہ کے مغربی جانب گشت کے دوران سعودی بحری جہاز پر حوثی ملیشیاؤں کی 3 خود کش کشتیوں نے دہشت گردانہ حملہ کیا، جس کے نتیجے میں جہاز پر سوار دو افراد "شہید” اور دیگر 3 افراد زخمی ہوگئے، جن کی حالت اب بہتر ہے۔ حملہ کے بعد سعودی فضائیہ اور اتحادی افواج کے بحری جہازوں نے مفرور کشتیوں کا پیچھا کیا اور ان کے خلاف کاروائی کی۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران نے "صومالیہ کی داعش” کے تعاون سے یمنی حوثیوں کو ہتھیار سمگل کئے ہیں۔
"الشرق الاوسط” کی اطلاعاتی رپورٹ کے مطابق ہتھیاروں کی 5 ترسیلوں کو خطے میں کام کرنے والی آسٹریلیا، فرانس اور امریکی نیوی نے پکڑا، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ دو بحری جہاز سعودیہ کی نیوی کی طرف سے روکے گئے۔ ان جہازوں کے راستوں پر کی گئی تحقیق سے واضح ہوا کہ ان کی حتمی منزل یمن تھی۔ رابطوں سے ظاہر ہوا کہ گرفتار کئے گئے عملے کے افراد مسلسل ایران سے رابطہ میں تھے، اس کے علاوہ ہتھیاروں کے مشہور صومالی تاجر اور بحری قزاق محمود یوسف اور صومالیہ میں تنظیم داعش کے لیڈر عبد القادر مومن سے بھی رابطہ میں تھے۔