سپریم کورٹ میں ٹرمپ کی طرف سے قدامت پسندوں کو تقویت ملی
واشنگٹن: ﻣﻨﲑ اﳌﺎوری امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکہ کی سپریم کورٹ کی نویں نشست پر جج نیل گورچ کو متعین کیا ہے اور اس کے ذریعہ امریکی معاشرہ کے بڑے اور اہم مسائل کا فیصلہ کرنے والی تنظیم میں قدامت پسندوں کو تقویت فراہم کی ہے۔ گورچ […]

واشنگٹن: ﻣﻨﲑ اﳌﺎوری
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکہ کی سپریم کورٹ کی نویں نشست پر جج نیل گورچ کو متعین کیا ہے اور اس کے ذریعہ امریکی معاشرہ کے بڑے اور اہم مسائل کا فیصلہ کرنے والی تنظیم میں قدامت پسندوں کو تقویت فراہم کی ہے۔
گورچ کے انتخاب کی وجہ سے ممکن ہے کہ پوری نسل کے لئے کورٹ کا رخ دائیں جانب ہو جائے جس کی وجہ سے مذہبی، روایت پسند اشخاص، آتشیں ہتھیار رکھنے کے سلسلہ میں تائید کرنے والے، سزائے موت کے حامی اور مالی مفادات کے مالکان خوشی اور راحت وسکون محسوس کریں گے۔ واشنگٹن میں واقع کاپیٹل ہل کے کورٹ میں صرف آٹھ جج ہیں جن میں سے چار قدامت پسند اور چار لیبرل ہیں یہ کورٹ ابھی سر گرم عمل ہے لیکن یکساں طور پر ووٹ کے تقسیم اور 2016 میں انٹونین سکالیا کی وفات کی وجہ سے اس کے اراکین کی تعداد آٹھ ہو گئی ہے جس کی وجہ سے اس کے بند ہونےکا خدشہ لگا ہے اور اس سلسلہ میں یاد رہے کہ انٹونین دائیں بازو کے ایک ستون اور قدامت پسند شخص تھے۔
دوسری طرف سینٹ میں ریپبلکن اکثریت نے کل ایک حیرت انگیز فیصلہ کیا ہے جس کے سلسلہ میں ڈیموکریٹک پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ کھیل کے قوانین میں بہت ہی خطرناک تبدیلی ہے اور یہ صدر کی تقرری کے سلسلہ میں منظوری کے ایک اہم ضابطہ میں ترمیم ہے اور اس ترمیم میں اس بات کی اجازت ہے صدر کی طرف سے اعلی عہدوں کے امیدواروں کے لئے کونسل کے کمیٹیوں میں ہونے والی کہ ووٹنگ کے دوران ڈیموکریٹک اقلیت کو الگ کر دیا جائے۔
اسی سلسلہ میں ایک خبر یہ بھی ہے کہ کل سینٹ نے ریکس ٹیلرسون کے وزیر خارجہ کی تقرری سے اتفاق کیا ہے۔
جمعرات 5 جمادی الاول 1438 ہجری – 2 فروری 2017 شمارہ نمبر {13946}