1976 کے واقعات کے بعد فرنجیہ کا حافظ اسد سے مدد کا مطالبہ
واشنگٹن: "الشرق الاوسط” امریکی انٹلیجنس اجنسی کے غیر مخفی دستاویزات نے اس بات کا انکشاف تفصیل کے ساتھ کیا ہے کہ بڑی طاقتوں نے گزشتہ صدی کی سترویں دہائیوں میں سابق صدر حافظ اسد کے زمانہ میں شامی حکومت کو لبنان میں لبنانی قومی مومنٹ نامی تحریک ان کے اتحادی مزاحمتی […]

واشنگٹن: "الشرق الاوسط”
امریکی انٹلیجنس اجنسی کے غیر مخفی دستاویزات نے اس بات کا انکشاف تفصیل کے ساتھ کیا ہے کہ بڑی طاقتوں نے گزشتہ صدی کی سترویں دہائیوں میں سابق صدر حافظ اسد کے زمانہ میں شامی حکومت کو لبنان میں لبنانی قومی مومنٹ نامی تحریک ان کے اتحادی مزاحمتی فلسطینی تحریکوں کی مشترکہ فورسز اور لبنانی عیسائی پارٹیوں کے درمیان ہونے والی جنگ کو ختم کرنے کے لئے مکلف بنایا تھا۔
اس مرحلہ یعنی سابق صدر سلیمان فرنجیہ کے زمانہ میں لبنان کی صورتحال دگرگوں تھی جس میں لبنان اور فلسطین کی مشترکہ فورسز کو برتری حاصل ہوئی۔ اسی کی وجہ یہ علاقائی کشمکش عالمی اور بین الاقوامی کشمکش میں بدل گئی۔
دستاویزات میں اس بات کا ذکر ہے کہ فرنجیہ نے حافظ اسد کو فون کر کے اپنے غصہ کا اظہار کیا اور جنگ ختم کرنے کے لئے براہ راست فوجی مداخلت نہ کرنے کی صورت میں دوسری کاروائیاں کرنے کی دھمکی دی۔ ان دستاویزات میں ان مشوروں کی طرف بھی اشارہ ہے جن کی بنیاد پر 1976 میں فلسطینیوں، ان کے ہمنوا بائیں بازو اور لبنان کے قومی لوگوں کے فوجی غلبہ کو ختم کرنے والی براہ راست اسرائیلی مداخلت کے خاتمہ کا ذکر تھا۔
ان دستاویزات میں سب سے اہم اس وقت برطانیہ کے وزیر خارجہ جیمس کالاہان کا برقی نامہ ہے جس میں انہوں نے اس وقت کے سوویت وزیر خارجہ آنڈریہ گرومیکو کے ساتھ اس معاملہ میں غور وفکر کا ذکر ہے اور اسی طرح اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ ہنری کیسنجر کے ساتھ رابطہ کرکے مشورہ کرنے کا ذکر ہے۔
جمعرات 6 ﺟﻤﺎدى الاوﻟﻰ 1438 ہجری – 2 ﻓروری 2017 شمارہ نمبر {13946}