شامی حزب اختلاف ڈی مستورا کی دھمکیوں اور کردوں کی شرکت کو مسترد کر رہی ہے
حلب کے گاؤں جنرین میں فلیپو گرانڈی دو بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے، جو گذشتہ ماہ شہر پر گولہ باری کی وجہ سے بے گھر ہو گئے تھے (ا.ف.ب) بيروت: كارولين عاكوم – ابو ظہبی: مساعد الزيانی شام کے لئے اقوام متحدہ کے ایلچی سٹیفن ڈی میستورا کی طرف سے ماہ […]

حلب کے گاؤں جنرین میں فلیپو گرانڈی دو بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے، جو گذشتہ ماہ شہر پر گولہ باری کی وجہ سے بے گھر ہو گئے تھے (ا.ف.ب)
بيروت: كارولين عاكوم – ابو ظہبی: مساعد الزيانی
شام کے لئے اقوام متحدہ کے ایلچی سٹیفن ڈی میستورا کی طرف سے ماہ رواں فروری کی 20 تاریخ کو جنیوا میں منعقدہ مذاکرات میں شرکت کے لئے متبادل وفد کو تشکیل دینے کو شامی حزب اختلاف نے دھمکی تصور کیا ہے اور اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے بیانات کسی بھی سیاسی حل تک رسائی کی راہ میں رکاوٹ ہو سکتی ہے۔
حزب اختلاف اس موضوع کو اقوام متحدہ کے ایلچی کے دائرہ اختیار سے باہر اور سلامتی کونسل کی قرار داد 2254 کے مخالف تصور کرتی ہے۔
جمعرات 6 جمادى الاولیٰ 1438 ہجری 02 فروری 2017ء شمارہ: (13946)