سوڈان لوٹے ہوئے اپنے آثار قدیمہ کو حاصل کرنے کے لئے مستعد
پیریس کی لوور میوزیم میں بادشاہ طہرقا کا مجسمہ خرطوم: احمد يونس سیاحت، آثار قدیمہ اور وائلڈ لائف کے سوڈانی وزیر نے اعلان کیا ہے کہ وہ دنیا کے میوزیم میں لوٹے ہوئے اپنے آثار کا معائنہ کریں گے اور سفارتی وقانونی وسائل کے ذریعہ انہیں حاصل کرنے کی کوشش کریں […]

پیریس کی لوور میوزیم میں بادشاہ طہرقا کا مجسمہ
خرطوم: احمد يونس
سیاحت، آثار قدیمہ اور وائلڈ لائف کے سوڈانی وزیر نے اعلان کیا ہے کہ وہ دنیا کے میوزیم میں لوٹے ہوئے اپنے آثار کا معائنہ کریں گے اور سفارتی وقانونی وسائل کے ذریعہ انہیں حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ اسی کے ساتھ ساتھ وہ اس معاملہ سے متعلق ملکوں سے گفتگو کریں گے اور آئندہ پیر کو تنظیم کی خاتون ڈائریکٹر کے خرطوم کی زیارت کے موقعہ سے یونیسکو سے بھی مطالبہ کریں گے کہ وہ اس معاملہ میں مداخلت کرے۔
وزیر نے "الشرق الاوسط” سے کہا کہ پیرس میں لوور میوزیم آئنہ سال سوڈان کے آثار قدیمہ کا ایک میلہ منعقد کرنے والا ہے جس میں تین ہزار سال قبل سوڈان سے لے کر فلسطین تک حکومت کرنے والے طہرقا نامی بادشاہ کی جمع شدہ چیزوں کو پیش کیا جائے گا اور انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ وہ موقعہ کو غنیمت جانتے ہوئے ان آثار قدیمہ کو حاصل کرنے کے لئے دوبارہ مطالبہ کریں گے۔
مصطفی نے مزید کہا کہ ہم اپنے حق کے سلسلہ میں مسلسل مطالبہ کرتے رہیں گے اور اس سلسلہ میں ہم تمام فراہم شدہ وسائل اختیار کریں گے اور اگر معاملہ سفارتی طریقوں سے حل نہیں ہوا تو پھر ہم قانون کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔
آئندہ سال سیاحت کی آمدنی بڑھنے کی توقع ہے اور اس بات کی بھی توقع ہے کہ سیاحوں کی تعداد دس لاکھ تک پہنچ جائے گی جبکہ گزشتہ سال ان کی تعداد 800 ہزار تھی۔ ان سیاحوں نے سوڈان میں ایک ارب سے زائد ڈالر خرچ کیا ہے۔ انہوں نے چین کے سیاحوں کے اضافہ کے بارے میں کہا ہے کیونکہ ان کی وزارت نے بیجنگ کے ساتھ باہم سیاحتی معاہدہ پر دستخط کیا ہے۔
جمعہ 7 ﺟﻤﺎدى الاول 1438ہجری – 3 ﻓروری 2017 شمارہ نمبر {13947}