شام میں اتحادی افواج رقہ کاروائی کے لئے عرب جنگجوؤں کو شامل کر رہی ہے
سابقہ چار سالوں میں شامی حزب اختلاف اور حکومتی افواج اور اس کی حمایتی ملیشیاؤں کے مابین جھڑپوں کے دوران حلب کی مسجد اموی میں بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی کا ایک منظر (ا.ب.ا) بيروت: بولا اسطيح اور كارولين عاكوم – ماسكو: طہ عبد الواحد حالیہ وقت میں بین الاقوامی اتحاد کی "داعش”

سابقہ چار سالوں میں شامی حزب اختلاف اور حکومتی افواج اور اس کی حمایتی ملیشیاؤں کے مابین جھڑپوں کے دوران حلب کی مسجد اموی میں بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی کا ایک منظر (ا.ب.ا)
بيروت: بولا اسطيح اور كارولين عاكوم – ماسكو: طہ عبد الواحد
حالیہ وقت میں بین الاقوامی اتحاد کی "داعش” کے خلاف جنگ کے لئے عرب جنگجوؤں پر مشتمل "جمہوریہ شام کی افواج” کو ساتھ ملانے کی کوششیں کر رہی ہیں۔ یہ رقہ کے دیہات میں "غضب فرات” کاروائی میں اس کے سینکڑوں افراد کی شمولیت کے بعد ہے۔ شامی حزب اختلاف اور شامی "الغد” گروپ کے رہنما احمد الجربا نے کل بیان دیا کہ ان کی زیر قیادت تین ہزارعرب جنگجوؤں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی قیادت میں بین الاقوامی اتحادی افواج سے تربیت لے رہے ہیں، تاکہ تنظیم داعش کے مضبوط ترین گڑھ رقہ پر فوجی کاروائی میں یہ شامل ہو سکیں۔ الجربا نے اخباری ایجنسی "روئیٹرز” سے بات کرنے ہوئے اس بات كى طرف اشارہ کیا کہ "اتحادی افواج کے ساتھ مشقوں کا منصوبہ” اندرون شہر کاروائی شروع کرنے کی خاطر ہے۔
"جمہوریہ شام کی افواج” کے ترجمان کرنل طلال سلو نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ الجربا کی قیادت میں ” ایلیٹ فورسز ہمارے شانہ بہ شانہ کام کر رہی ہیں مگر یہ اس کا حصہ نہیں”۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ اس کا ایک بیج "غضب فرات” کے دوسرے مرحلے میں شامل ہوا، جبکہ دیگر بیج آنے والے مراحل میں حصہ لینے کے لئے امریکی اور اتحادیوں سے تربیت وتیاری مکل کر رہے ہیں۔