"بریکسٹ” پلان میں 3 یورپی اداروں کا انخلا شامل
برطانیہ امیگریشن قوانین میں تبدیلی کا سوچ رہا ہے اور 3 ملین باشندوں کے مستقبل پر غور لندن: "الشرق الاوسط” کل برطانوی حکومت نے یورپی یونین کے ساتھ مذاکرات کے ایک تفصیلی لائحہ عمل کو شائع کیا، جس میں یورپی یونین سے، متحدہ منڈی سے اور یونین کے تحت جسٹس کورٹ سے نکلنے […]
برطانیہ امیگریشن قوانین میں تبدیلی کا سوچ رہا ہے اور 3 ملین باشندوں کے مستقبل پر غور

لندن: "الشرق الاوسط”
کل برطانوی حکومت نے یورپی یونین کے ساتھ مذاکرات کے ایک تفصیلی لائحہ عمل کو شائع کیا، جس میں یورپی یونین سے، متحدہ منڈی سے اور یونین کے تحت جسٹس کورٹ سے نکلنے کی خواہش ظاہر کی گئی ہے۔ اس لائحہ عمل کو "وائٹ بک” کا نام دیا گیا ہے اور یہ "بریکسٹ” کے روڈ میپ کو تشکیل دے گا۔ 77 صفحات پر مشتمل یہ لائحہ عمل ان بارہ پوائنٹس کے ارد گرد تواجہ مرکوز کراتا ہے جو برطانوی وزیر اعظم تھریسا مئی نے 17 جنوری کو پیش کئے تھے۔
ایک بار پھر دستاویز میں امیگریشن قوانین؛ جو مزدورں کے یورپی یونین میں آزادانہ آنے جانے کے اصول کے منافی ہے، اسے ترجیحی بنیادوں پر بحال کرنے پر زور دیا گیا ہے، جبکہ 500 ملین صارفین پر مشتمل اتحادی منڈی تک "بہترین رسائی کے امکانات” کی حفاظت کے ساتھ ممکن ہو۔ بریکسٹ کے امور کے ذمہ دار برطانوی وزیر "ڈیوڈ ڈیویس” نے اس سلسلے میں کہا کہ مستقبل میں امیگریشن قوانین میں ترمیم کرنے کی ضرورت ہے۔
حکومت نے ایوان نمائندگان کی طرف سے 114 ووٹوں کے مقابلے میں 498 ووٹوں کی اکثریت کے ساتھ موفقت کرنے کے چند روز بعد اپنے منصوبہ سے پردہ اٹھایا، جس میں یہ بل حکومت کو اجازت دیتا ہے کہ وہ لسبون سمجھوتے کے آرٹیکل 50 کو نافذ کرے، جو انخلا کے مذاکرات سے دو سال قبل شروع ہوئے تھے۔ اس پر مزید بات چیت آئندہ ہفتے کی جائے گی، لیکن (قدامت پسند) وزیر خارجہ بورس جانسن ابھی سے اس "تاریخی لمحہ” پر بات کر رہے ہیں۔ قدامت پسند رہنما جان ریڈووڈ؛ جو کافی عرصہ تک یورپی بلاک کی مخالفت کی وجہ سے معروف رہے، انہوں نے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "ہم واپسی کے پوائنٹ سے آگے نکل چکے ہیں، عنقریب ہم یورپی یونین کو چھوڑ دیں گے”۔
ایوان نمائندگان آنے والے بات چیت کے سیشن کے دوران مجوزہ سینکڑوں ترامیم کی جانچ پڑتال کرے گے، کیونکہ یہ برطانیہ میں مقیم تین ملین یورپی باشندوں کے مستقبل کے بارے میں خاص طور سے دلچسپی رکھتے ہیں اور یہی نقطۂ اکثریت کی صفوں میں تنازعہ کا باعث ہے۔