"آستانہ” کے نگران شام میں جنگ بندی کو مستحکم کرنے کے لئے کوشاں
ماسكو: طہ عبد الواحد آج آستانہ کانفرنس کے نگران شامی فائل کے بارے میں قازقستان کے دارالحکومت میں خصوصی اجلاس منعقد کررہے ہیں، جس میں روس، ترکی، ایران اور اقوام متحدہ کے نمائندوں کی شرکت کے ساتھ تکنیکی بات چیت کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ یہ اجلاس شامی حکومت […]

ماسكو: طہ عبد الواحد
آج آستانہ کانفرنس کے نگران شامی فائل کے بارے میں قازقستان کے دارالحکومت میں خصوصی اجلاس منعقد کررہے ہیں، جس میں روس، ترکی، ایران اور اقوام متحدہ کے نمائندوں کی شرکت کے ساتھ تکنیکی بات چیت کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ یہ اجلاس شامی حکومت اور علیحدگی پسند شامی مسلح حزب اختلاف کے وفود کے مابین دو ہفتے قبل ہونے والے بالواسطہ مذاکرات کے بعد ہے۔
قازقستان کے دارالحکومت سے ذرائع نے "الشرق الاوسط” سے کہا کہ آستانہ مذاکرات کے نگران ممالک اس اجلاس میں "فوج کے مابین فنی بات چیت کے ذریعے تمام فریقوں کے لئے اطمینان بخش مفاہمت تک پہنچنے کی کوشش کریں گے۔ جبکہ مخصوص میکانزم کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزیوں کو روکنے میں اپنا اپنا کردار ادا کرنے کے علاوہ انسانی امداد کی رسائی کو یقینی بنانے سیمت دیگر مسائل پر بھی بات چیت کی جائے گی”۔
دریں اثناء، روسی وزیر خارجہ "سیرگی لافروف” نے اس بات پر زور دیا کہ آستانہ مذاکرات کے نگران ممالک اسے جنیوا مذاکرات کا متبادل بنانے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ "پروفائل” میگزین کے ساتھ ان کے انٹرویو کو کل روسی وزارت خارجہ نے اپنی سرکاری ویب سائٹ پر نشر کیا ہے، جس میں لافروف نے جنیوا مذاکرات کی بحالی کا خیر مقدم کرتے ہوئے روس کی جانب سے ان مذاکرات کی حمایت کی یقین دہانی کی۔