ٹریسا مئی کی طرف سے نتن یاہو کی شرمندگی اور لندن دونوں ملکوں کے مسئلہ کو حل کرنے کا پابند
لندن: "الشرق الاوسط” برطانیہ کی خاتون وزیر اعظم ٹریسا مئی نے اپنے اسرائیلی ہم منصب نتن یاہو کو کل لندن میں واقع ایک میٹنگ کے دوران شرمندہ کر دیا۔ اس سے قبل انہوں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ اب لندن دونوں ملکوں کے مسئلہ کو حل کرنے کا […]

لندن: "الشرق الاوسط”
برطانیہ کی خاتون وزیر اعظم ٹریسا مئی نے اپنے اسرائیلی ہم منصب نتن یاہو کو کل لندن میں واقع ایک میٹنگ کے دوران شرمندہ کر دیا۔ اس سے قبل انہوں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ اب لندن دونوں ملکوں کے مسئلہ کو حل کرنے کا پابند ہے اور آبادکاری کے مسئلہ کا منکر ہے جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم نے تنقیدوں سے فرار اختیار کرتے ہوئے ایران کی فائل پر اپنی توجہ مرکوزکرنے کی کوشش کی ہے۔
نتن یاہو نے کہا ہے کہ برطانیہ اور اسرائیل کو مسلح اسلام کے واضح چیلنجوں کے ساتھ ساتھ ایران کا سامنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی کوشش اسرائیل کو نست ونابود کرنا ہے اور وہ اس سلسلہ میں صراحت کے ساتھ کہتا بھی ہے۔ اس کی کوشش مشرق وسطی میں ایک عالمی جنگ کی بھی ہے۔ اسی طرح وہ یوروپ، مغرب بلکہ پوری دنیا کو دھمکی دے رہا ہے اور اشتعال انگیزی کا ماحول برپا کر رہا ہے۔ نتن یاہو نے ذمہ دار ملکوں کو دعوت دی ہے کہ وہ بھی ایران کے خلاف پابندی لگائے جانے کا مطالبہ کرکے ریاستہائے متحدہ امریکہ کے نقش قدم پر چلیں۔
لیکن مئی نے اپنی میٹنگ کا آغا کرتے ہوئے پرزور انداز میں کہا ہے کہ ہم دونوں ملکوں کے مسائل کو حل کرنے کی مسلسل کوشش کرتے رہیں گے اور امن وسلامتی قائم کرنے کا یہی بہترین طریقہ ہے۔ میٹنگ کے بعد وزیر اعظم کے دفتر نے اس بات کا اعلان کیا ہے کہ مئی نے سختی کے ساتھ آبادکاری کی سرگرمی کی تردید کی ہے اور علاقہ کے امن وامان اور اس کے استقرار واستحکام کے لئے پر خطر ایران کی سرگرمی کے سلسلہ میں بیدار رہنے کا حکم دیا ہے اور انہوں نے جوہری معاہدہ کے سلسلہ میں کہا ہے کہ اس مسئلہ کو صحیح طریقہ سے نافذ کیا جائے۔
منگل 11 جمادی الاول 1438 ہجری – 7 فروری 2017 شمارہ نمبر {13951}