روس کی طرف سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوشش
موسكو: طہ عبد الواحد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے ارکان نے ایران سے متعلق موسکو میں سخت بے چینی کاماحول برپا کر دیا ہے۔ اسی وجہ سے روس کی طرف سے ایران کے سلسلہ میں امریکی شدت کو کم کرنے کی کوشش جاری ہے اور روس نے […]

موسكو: طہ عبد الواحد
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے ارکان نے ایران سے متعلق موسکو میں سخت بے چینی کاماحول برپا کر دیا ہے۔ اسی وجہ سے روس کی طرف سے ایران کے سلسلہ میں امریکی شدت کو کم کرنے کی کوشش جاری ہے اور روس نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اس کشیدگی کو کم کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے گا۔
کریملن کے ترجمان دیمٹری پیسکو نے ٹرمپ کی طرف سے کہی جانے والی اس بات کی تردید کی ہے کہ ایران دہشت گردی کا ملک ہے اور کہا ہے کہ ہم اس شکل میں اس موضوع سے متفق نہیں ہیں۔ روسی وزیر خارجہ سرجی لاوروف نے دہشت گردی کے خلاف تعاون کا کھیل کھیلنے کی کوشش کی ہے اور کہا ہے کہ ایران شام میں داعش سے مقابلہ کرنے میں شامل ہے۔ اگر ہم حقیقی طور پر دہشت گردی کے خلاف اتحاد میں مشارکین کی طرف نظر اٹھا کر دیکھیں گے تو ان میں ایران کو ایک رکن قرار دینا ضروری ہوگا۔ کل ایران میں روسی سفیر لیون جاگارین نے اپنے بیان میں کہا کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ اور ایران کے درمیاں ہونے والے بیانات میں سخت لہجہ کی وجہ سے موسکو بے چین ہے اور انہوں نے اپنے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس واشنگٹن اور تہران کے مابین ہونے والی کشیدگی کو کم کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے گا۔
منگل 11 جمادی الاول 1438ہجری – 7 فروری 2017 شمارہ نمبر {13951}