پہلی مرتبہ مصر کی مسجدوں میں واعظہ کی حیثیت سے عورتوں کی تقرری

قاہرة: وليد عبد الرحمن پہلی مرتبہ مصر میں مسجدوں میں پند ونصیحت کرنے کے لئے 144 عورتوں کی تقرری ہوئی ہے۔ وزارت اوقاف نے ایک پروگرام میں کہا کہ اس کا مقصد تشدد کا مقابلہ کرنے کے لئے دینی خطاب کی تجدید اور دعوت کے کام کو سرگرم کرنا ہے۔ […]

پہلی مرتبہ مصر کی مسجدوں میں واعظہ کی حیثیت سے عورتوں کی تقرری
5

قاہرة: وليد عبد الرحمن

پہلی مرتبہ مصر میں مسجدوں میں پند ونصیحت کرنے کے لئے 144 عورتوں کی تقرری ہوئی ہے۔ وزارت اوقاف نے ایک پروگرام میں کہا کہ اس کا مقصد تشدد کا مقابلہ کرنے کے لئے دینی خطاب کی تجدید اور دعوت کے کام کو سرگرم کرنا ہے۔

اس نئے فیصلہ کی وجہ سے مسجدوں کے اندر ان کے لئے نصیحت کی جگہ متعین کرنے کے سلسلہ میں ایک طوفان برپا ہو گیا ہے۔ باخبر ذرائع نے کہا کہ ان خواتین کی تقرری سے خواتین اور لڑکیوں کے درمیان دینی خطاب کی تجدید اور صحیح فکر کی نشر واشاعت کا کام لیا جائے گا۔  مصری صدر عبد الفتاح السیسی نے کئی مرتبہ ملک میں دینی خطاب کے سلسلہ میں اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور سرکاری دینی ادارہ کو تشدد پسند جماعتوں کے افکار کو ختم کرنے کی دعوت دی ہے۔

نگرانوں کا کہنا ہے کہ اس وقت مسجدوں میں پند ونصیحت کرنے والی خواتین کی تقرری دینی خطاب کی تجدید کے لئے سیسی کی دعوت کی تعمیل میں ہوئی ہے۔ خاص طور پر ان لڑکیوں اور خواتین کے درمیان جن کو تشدد پسند جماعتیں اپنا آلہ کار بنا لیتی ہیں اور سماج وسوسائٹی میں ناپسندیدگی کو فروغ اور تشدد کی دعوت کے لئے ان کو قانع کر لیتی ہیں۔

وزارت اوقات میں مذہبی شعبے کے سربراہ شیخ جبر طائع نے "الشرق الاوسط” سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نصیحت کرنے کے لئے متعینہ خواتین کی ذمہ داری مسجدوں میں خواتین کے لئے نماز کی خاص جگہ کے اندر ہوگی اور یہ خواتین ہر وہ ذمہ داری ادا کریں گی جو مرد داعی ادا کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ عورتوں سے متعلق موضوعات کے سلسلہ میں لیکچر کے لئے ایک ہفتہ میں دو دن خاص ہونگے۔

ہفتہ 15 جمادی الاول 1438ہجری – 11 فروری 2017 شمارہ نمبر {13955}