اسرائیلی دائیں بازو نتن یاہو اور ٹرمپ کے سمجھوتہ سے پریشان

تل ابيب: نظير مجلی کل اس بات کی اطلاع ملی ہے کہ اسرائیلی دایاں بازو اس مذکورہ سمجھوتہ سے پریشان ہے۔ اس سمجھوتہ کے بارے میں وزیر اعظم نتن یاہو نے کہا کہ انہوں نے چند دنوں قبل واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ یہ سمجھوتہ کیا ہے۔ اس […]

اسرائیلی دائیں بازو نتن یاہو اور ٹرمپ کے سمجھوتہ سے پریشان
2

تل ابيب: نظير مجلی

کل اس بات کی اطلاع ملی ہے کہ اسرائیلی دایاں بازو اس مذکورہ سمجھوتہ سے پریشان ہے۔ اس سمجھوتہ کے بارے میں وزیر اعظم نتن یاہو نے کہا کہ انہوں نے چند دنوں قبل واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ یہ سمجھوتہ کیا ہے۔ اس سمجھوتہ میں اس بات کا ذکر ہے کہ دو طرفہ کمیٹی تشکیل دی جائے گی جس میں ایک کمیٹی کا کام یہ ہوگا کہ وہ بلڈنگ بنانے اور اس کو وسیع کرنے کے قوانین متعین کرے۔

نتن یاہو نے اپنے وزراء کے سامنے اس بات کا اعلان کیا ہے کہ انہوں نے صدر ٹرمپ کے ساتھ اس تاریخی ملاقات میں بہت سے فوائد حاصل کئے ہیں جن میں سر فہرست فوری طور پر کام کرنے والی دو طرفہ کمیٹی کے اہم فائلوں کے سلسلہ میں غور وفکر کرنا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ٹرمپ ایرانی موضوع کے سلسلہ میں ان سے موافق ہیں۔ اسی طرح انہوں نے یہ بھی وعدہ کیا ہے کہ وہ امریکی نزاد یہودی جوناٹان بولارڈ کی حرکتوں پر لگائی گئیں پابندیوں کو ختم کرنے کے سلسلہ میں ان کی درخواست پر غور وفکر کریں گے۔ اس سلسلہ میں قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس امریکی نزاد یہودی نے اسرائیل کے لئے جاسوسی کی وجہ سے جیل میں تیس سال گزارے ہیں۔ بلڈنگ کے سلسلہ میں معیار کی تعیین کرنے والی دو طرفہ اسرائیلی اور امریکی کمیٹی کی تشکیل نے نٹن یاہو کے اتحادیوں کو حیران کر دیا ہے۔

"یہودی ہوم ” کے صدر وزیر "ٹفٹالی بنیٹ” کے قریبی ذرائع نے کہا ہے کہ امریکی نزاد یہودی اور ان کی پارٹی کی خاتون دوست "اییلٹ اشکڈ” دونوں اس فیصلہ سے پریشان ہیں اور انہوں نے اس فیصلہ کو سابق امریکی صدر کی پالیسی کی طرف واپسی قرار دیا ہے کیونکہ انہوں نے بھی آبادکاری کے معاملہ کو مقید کر دیا تھا۔

ہفتہ 22 جمادی الاول 1438ہجری – 18 فروری 2017ء شمارہ نمبر {13962}