"دائیں جانب کی لڑائی” میں موصل ایئر پورٹ کی طرف پیش رفت

فیلڈ کمانڈر کی اس کاروائی میں "آسانی” کی امید ۔۔۔ جبکہ "داعش” اور دریائے دجلہ کے مابین 6 لاکھ 50 ہزار افراد محصور   اربيل: دلشاد عبد الله­ – بغداد: "الشرق الاوسط” گزشتہ کل موصل کے دائیں جانب کے علاقے کو آزاد کرانے کی کاروائی کا آغاز ایئر پورٹ کی طرف

"دائیں جانب کی لڑائی” میں موصل ایئر پورٹ کی طرف پیش رفت
فیلڈ کمانڈر کی اس کاروائی میں "آسانی” کی امید ۔۔۔ جبکہ "داعش” اور دریائے دجلہ کے مابین 6 لاکھ 50 ہزار افراد محصور
news-190217-1_0

اربيل: دلشاد عبد الله­ – بغداد: "الشرق الاوسط”

گزشتہ کل موصل کے دائیں جانب کے علاقے کو آزاد کرانے کی کاروائی کا آغاز ایئر پورٹ کی طرف سے شروع کیا گیا۔ جس کے بارے میں فیلڈ کمانڈر نے امید ظاہر کی کہ یہ کاروائی شہر کے بائیں طرف کے علاقوں کو آزاد کرانے کہ بہ نسبت "آسان” رہے گی۔

یاد رہے کہ انسداد دہشت گردی فورس کی قیادت میں بائیں طرف کے علاقوں کو آزاد کرانے کی کاروائی کی گئی جبکہ اس کے برعکس جنگ کی نئی کاروائی میں اتحادی پولیس قیادت کر رہی ہے۔ اسی طرح کل جنوبی موصل میں سات دیہاتوں کو آزاد کرا لیا گیا۔ موصل کے مغرب میں عراقی افواج کی کاروائی کا بنیادی مقصد ایئر پورٹ اور اس کے قریب فوجی ایئر بیس کا حصول ہے۔

دریں اثناء "آزادیٔ نینوی کاروائی” کے کمانڈر میجر جنرل نجم الجبوری نے "الشرق الاوسط” سے رابطے کے دوران امید ظاہر کی کہ "بائیں جانب کی کاروائی آسان ہوگی کیونکہ "داعش” اپنے اوپر مسلسل دباؤ کی وجہ سے جنگی صلاحیت کھو چکی ہے”، لیکن انہوں نے اعتراف کیا کہ جنگی مشکلات کے بارے میں فوجی قیادتیں بھی "تقسیم” ہو چکی ہیں۔

دوسری طرف 6 لاکھ 50 ہزار عام شہری؛ جن میں 3 لاکھ 50 ہزار بچے بھی شامل ہیں، وہ ایک طرف سے "داعش” اور دوسری طرف دریائے دجلہ کی وجہ سے محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ عراقی افواج مغربی جانب سے کئی ایک مقامات سے پیش رفت کی کوشش کر رہی ہے، جس میں دائیں جانب کے علاقوں کو مسلح "داعش” سے آزاد کرانے کے بعد شہریوں کو دریائے دجلہ پر (عارضی) تیرتے ہوئے پلوں کے ذریعے پر امن راستوں کی فراہمی بھی شامل ہے۔

پیر­ 24 جمادى الاول 1438 ہجری ­ 20 فروری 2017 ء  شمارہ: (13964)