الجزائر کی پولیس احمدیہ فرقے کے رہنما اور اس کے 11 پیروکاروں کو گرفتار کر رہی ہے

الجزائر: "الشرق الاوسط” کل الجزائر میں قومی سلامتی کے جنرل ڈائریکٹریٹ نے اعلان کیا کہ پولیس نے (مغربی) چیلف ریاست سے احمدی فرقہ کے "ملکی رہنما” اور اس کے 11 پیروکاروں کو "اپنے عقیدے کی اشاعت” کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے، جیسا کہ سرکاری ریڈیو کی ویب سائٹ پر بی

الجزائر کی پولیس احمدیہ فرقے کے رہنما اور اس کے 11 پیروکاروں کو گرفتار کر رہی ہے
majalla-thumbnail-001

الجزائر: "الشرق الاوسط”

کل الجزائر میں قومی سلامتی کے جنرل ڈائریکٹریٹ نے اعلان کیا کہ پولیس نے (مغربی) چیلف ریاست سے احمدی فرقہ کے "ملکی رہنما” اور اس کے 11 پیروکاروں کو "اپنے عقیدے کی اشاعت” کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے، جیسا کہ سرکاری ریڈیو کی ویب سائٹ پر بیان جاری کیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ گرفتار کئے گئے افراد سے عقیدۂ فرقہ احمدیہ کی دعوت پر مبنی دستاویزات، پمفلٹ اور سی ڈیز برآمد کی گئی ہیں۔

5 افراد کو قید اور 4 کو عدالتی نگرانی میں لینے کے علاوہ دیگر افراد کو آزاد کر دیا گیا ہے۔ استغاثہ نے الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے قانونی اجازت نامہ کے بغیر ایک ایسوسی ایشن قائم کی، مستحکم مذہبی تعلیمات میں تعصب پھیلایا اور ملکی اعلی سطح کے مفادات کو نقصان پہنچانے کی غرض سے دعوت و تبلیغ کے لئے غیر ملکی ذرائع سے حاصل کردہ مواد کی نشر واشاعت کی”۔

اس سے قبل بھی ذرائع ابلاغ نے اعلان کیا تھا کہ گذشتہ ہفتوں میں احمدیہ فرقہ کے بعض پیروکاروں کو پولیس نے گرفتار کیا ہے، لیکن قومی سلامتی کے جنرل ڈائریکٹریٹ کی طرف سے سرکاری طور پر پہلی بار یہ اعلان کیا گیا ہے۔

تصوف کے محقق سعید جاب الخیرکے مطابق فرقہ احمدیہ؛ جس کی بنیاد میرزا غلام احمد قادیانی (1835 – 1908) نے رکھی، الجزائر میں اس کی اشاعت کا آغاز نوے کی دہائی کے اواخر میں ہوا۔

محقق نے فرانسیسی اخباری ایجنسی کو بتایا کہ "محمد فالی نامی شخص الجزائر میں فرقے کا رہنما ہے اور اس سے پیروکاروں کی تعداد چند سو کے قریب ہے”۔

الجزائر میں مذہبی حکام سنی اسلام کے علاوہ کسی اور کو تسلیم نہیں کرتے۔ ملک کا سرکاری (فقہی) مسلک مالکی ہے اور الجزائر کی اکثریت اسی مسلک کی پیروکار ہے۔ دیگر مذاہب کے حوالے سے، حکام عیسائی پادریوں کو "سرکاری گرجا گھروں میں” سکونت کی اجازت دیتے ہیں، جبکہ انہیں عیسائیت کی تبلیغ سے روکا گیا ہے۔ اس سے قبل مذہبی امور کے وزیر محمد عیسی نے یقین دہانی کی کہ حکومت "دیگر فرقوں کے خلاف قانونی کاروائی اس لئے نہیں کر رہی کیونکہ وہ غلط عقائد رکھتے ہیں بلکہ اس لئے کر رہی ہے کہ وہ لائسنس کے بغیر نماز پڑھتے ہیں”۔

جمعرات 27 جمادى الاول 1438 ہجری ­ 23 فروری 2017ء  شمارہ: (13967)