یمن کے باغیوں کے خلاف اقوام متحدہ کی پابندیوں میں اضافہ
رياض: عبد الہادی حبتور کل بین الاقوامی سلامتی کونسل نے اتفاق رائے کے ساتھ یمن کے باغیوں کے خلاف لگی پابندیوں میں ایک سال کا اضافہ کیا ہے اور یہ پابندیاں 28 فروری 2018 تک رہیں گی۔ اسی طرح اس نے یمن میں خاص پابندیوں کی کمیٹی کے تابع ماہرین کی […]

رياض: عبد الہادی حبتور
کل بین الاقوامی سلامتی کونسل نے اتفاق رائے کے ساتھ یمن کے باغیوں کے خلاف لگی پابندیوں میں ایک سال کا اضافہ کیا ہے اور یہ پابندیاں 28 فروری 2018 تک رہیں گی۔ اسی طرح اس نے یمن میں خاص پابندیوں کی کمیٹی کے تابع ماہرین کی ٹیم کی مدت میں بھی اضافہ کیا ہے اور یہ مدت 28 مارچ 2018 تک رہے گی۔
کمیٹی نے اپنے نئے فیصلہ نمبر 2342 میں اس بات کا اظہار کیا ہے کہ یمن کے حالات کی وجہ سے بین الاقوامی امن وسلامتی کو خطرہ در پیش ہے۔ قرار داد کے پہلے بند میں مکمل طور پر یمن کے اندر سیاسی منتقلی کی مہم کو مناسب وقت میں پایہ تکمیل تک پہنچانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے اور ایسا اس وجہ سے کیا گیا ہے تاکہ یہ قومی مذاکرات کے نتائج، خلیجی تعاون کے اقدام اور اس کے نفاذ کے طریقۂ کار اور سلامتی کونسل کی قرارداد کے موافق ہو سکے۔
دوسری طرف یمن میں ہونے والے حادثات کا اندازہ لگانے والی ٹیم نے اپنی تحقیقات کے بعد اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ قانون کی حمایت کرنے والی عرب اتحاد ایک فضائی حملہ کی ذمہ دار ہے لیکن وہ دوسرے تین فضائی حملوں سے بری ہے۔ حادثات کا اندازہ لگانے والی مشترکہ ٹیم کے ترجمان قانونی مشیر کار منصور منصور نے کل ریاض میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران اس بات کا اعلان کیا ہے کہ ٹیم چار واقعات کی اپنی تحقیقات سے فارغ ہو چکی ہے اور بین الاقوامی اور حقوق انسان کی تنظیموں کی طرف سے چند ایسے دعوے موصول ہوئے ہیں جن میں اتحادی فورسز پر اس بات کا الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا تھا جس کے نتیجہ میں چند لوگ ہلاک ہوئے تھے۔
جمعہ 28 جمادی الاول 1438ہجری – 24 فروری 2017ء شمارہ نمبر {13968}