روسی دباؤ کی وجہ سے "سیاسی تبدیلی” دوبارہ جنیوا کے ایجنڈے میں شامل

بيروت: كارولين عاكوم امید یہ تھی کہ کل جمعہ کے دن جنیوا مذاکرت دو ہفتہ کے بعد دوبارہ شروع ہونے کی شرط پر ختم ہو جائیں گے لیکن روس مذاکرات کے شروع ہونے کے پانچ دن کے بعد دباؤ کے ذریعہ اس میں ایک بنیادی اختلاف پیدا کرنے میں کامیاب ہو […]

روسی دباؤ کی وجہ سے "سیاسی تبدیلی” دوبارہ جنیوا کے ایجنڈے میں شامل
3

بيروت: كارولين عاكوم

امید یہ تھی کہ کل جمعہ کے دن جنیوا مذاکرت دو ہفتہ کے بعد دوبارہ شروع ہونے کی شرط پر ختم ہو جائیں گے لیکن روس مذاکرات کے شروع ہونے کے پانچ دن کے بعد دباؤ کے ذریعہ اس میں ایک بنیادی اختلاف پیدا کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔

مذاکرات کی اعلی کمیٹی کے وفد نے اس بات کا اعلان کیا ہے کہ بشار کی انتظامیہ نے سیاسی تبدیلی کے سلسلہ میں غور وفکر کرنے کو قبول کر لیا ہے اور مخالف جماعتوں نے اسے ایک طرح کی کامیابی سمجھ کر عملی اقدام کے منتظر ہیں۔اعلی کمیٹی کے وفد کے صدر نصر حریری نے کل اقوام متحدہ کے سفیر اسٹیفن ڈی میسٹورا سے ملاقات کرنے کے بعد کہا کہ سیاسی تبدیلی کا موضوع جنیوا میں جاری سیاسی اور عملی تبدیلی کی گفتگو کا موضوع بنا ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈی میسٹورا سے سنا ہے کہ روس کی طرف سے دباؤ کی وجہ سے بشار کی انتظامیہ 2254  نمبر بین الاقوامی فیصلہ میں ذکر شدہ مسائل کو قبول کرنے کو تیار ہے اور ہمیں جس چیز کی فکر ہے وہ سیاسی تبدیلی کا ملکمل ہونا ہے۔

جمعرات 3 جمادی الثانی 1438ہجری – 2 مارچ 2017ء شمارہ نمبر {13974}