پینٹاگون کی "الرقہ”کے لئے منصوبہ بندی اور ترکی کے تحفظات نظر انداز
کردوں کی حمایت، امریکی فوج میں اضافہ اور فیلڈ کمانڈروں کو کھلی چھٹی دینے پر مشتمل منصوبہ واشنگٹن: كارين ڈی يونگ – ليز سلائے انکشاف ہوا ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے مطالبہ پر امریکی وزارت دفاع (پینٹاگون) کی طرف سے (شامی شہر) الرقہ کو آزاد کرانے کی کاروائی سے متعلق […]
کردوں کی حمایت، امریکی فوج میں اضافہ اور فیلڈ کمانڈروں کو کھلی چھٹی دینے پر مشتمل منصوبہ

واشنگٹن: كارين ڈی يونگ – ليز سلائے
انکشاف ہوا ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے مطالبہ پر امریکی وزارت دفاع (پینٹاگون) کی طرف سے (شامی شہر) الرقہ کو آزاد کرانے کی کاروائی سے متعلق منصوبہ بندی میں؛ خاص طور سے کرد "عوامی حفاظتی یونٹس” کو شامل کر کے، ترکی کے تحفظات کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔
گذشتہ پیر کے روز یہ منصوبہ ٹرمپ کو پیش کیا گیا، جس کی تیاری کے لئے "پینٹاگون” کو 30 روزہ مہلت دی گئی تھی۔ اس منصوبہ بندی پر صدر سے منظوری لینے میں ترکی کا مطالبہ بھی شامل ہے ،جس کے مطابق الباب شہر کو کرد ڈیموکریٹک پارٹی کے ماتحت عوامی حفاظتی یونٹس کے سامنے بند کر دیا جائے۔ کیونکہ انقرہ اسے امریکی ساز وسامان سے لیس دہشت گرد تنظیم اور شہر پر حملہ آور قرار دیتا ہے۔ اس منصوبہ میں اسپیشل امریکی فورسز، حملہ آور ہیلی کاپٹر اور توپوں کو پھیلانے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں "ڈیموکریٹک شامی افواج”؛ جن پر کرد غالب ہیں، انہیں ہتھیاروں کی کمک دینے اور امریکی حکام کی رپورٹ کے مطابق فیلڈ کمانڈروں کو کھلی چھٹی دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔