داعش کے غیر ملکی جنگجو موصل سے بھاگ رہے ہیں
موصل: دلشاد عبد اللہ امریکی اور کردی ذرائع نے اطلاق دی ہے کہ "داعش” کی شکشت کے اشارے مل رہے ہیں کیونکہ ان کے غیر ملکی سینکڑوں جنگجو شام کی طرف بھاک چکے ہیں اور عراقی فوجیوں نے شہر کے سرکاری اداروں کو ان سے آزاد کرا کر ان پر عراقی […]

موصل: دلشاد عبد اللہ
امریکی اور کردی ذرائع نے اطلاق دی ہے کہ "داعش” کی شکشت کے اشارے مل رہے ہیں کیونکہ ان کے غیر ملکی سینکڑوں جنگجو شام کی طرف بھاک چکے ہیں اور عراقی فوجیوں نے شہر کے سرکاری اداروں کو ان سے آزاد کرا کر ان پر عراقی جھنڈے لہرا دیا ہے۔
"داعش” کے خلاف بین الاقوامی اتحاد میں امریکی جنرل میتھیو آئسلر نے پر زور انداز میں کہا ہے کہ "داعش” کے جنگجو اپنی تنظیم کھو چکے ہیں اور ان کے بعض غیر ملکی جنگجو موصل سے بھاگنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ "روئٹرز” ایجنسی نے یہ بات نقل کی ہے کہ کاروائیوں کے رہنماء اور غیر ملکی جنگجو جنگ کے میدان سے پیچھے ہٹ گئے اور مقامی جنگجوؤں کو عراقی فوجیوں کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے چھوڑ دیا۔
کرد ڈیموکریٹک پارٹی میں چودہویں فریق کے میڈیاء کے ذمہ دار سعید مموزینی نے "الشرق الاوسط” سے کہا ہے کہ ہمارے پاس "داعش” کے تابع علاقوں سے یہ خبر آئی ہے کہ 300 مسلح افراد شام کے رقہ شہر کی طرف بھاگ چکے ہیں جن میں غیرملکی رہنماء بھی شامل ہیں اور یہ رقہ شہر "داعش” کا اصل قلعہ ہے۔ انہوں نے مزیر کہا کہ تنظیم نے اپنے مسلح افراد کو شام کی طرف بھگانے کے لئے صحراء کے راستوں کا انتخاب کیا ہے۔
بدھ 9 جمادی الثانی 1438ہجری – 8 مارچ 2017ء شمارہ نمبر {13980}