عرب یونیورسیٹیوں میں ہزاروں سال پرانی ازہر یونیورسیٹی
لندن: "الشرق الاوسط” سب سے پرانی عرب یونیورسٹی کے فیصلہ کے سلسلہ میں مختلف آراء ہیں۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ قاہرہ یونیورسیٹی سب سے پرانی یونیورسٹی ہے جبکہ اس کی بنیاد 1908ء میں رکھی گئی ہے اور تاریخ میں اس یونیورسٹی کے مقابلہ میں جزائر یونیورسٹی کا ذکر کیا […]

لندن: "الشرق الاوسط”
سب سے پرانی عرب یونیورسٹی کے فیصلہ کے سلسلہ میں مختلف آراء ہیں۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ قاہرہ یونیورسیٹی سب سے پرانی یونیورسٹی ہے جبکہ اس کی بنیاد 1908ء میں رکھی گئی ہے اور تاریخ میں اس یونیورسٹی کے مقابلہ میں جزائر یونیورسٹی کا ذکر کیا جاتا ہے۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ بیروت کی امریکن یونیورسٹی سب سے پرانی عرب یونیورسٹی ہے کیونکہ اس کی بنیاد بیسویں صدی سنہ 1866ء میں رکھی گئی ہے اور اس کے بعد مزید دو یونیورسٹیون کی بنیار رکھی جانے کا بھی ذکر ملتا ہے ان میں ایک سن جوژیف یونیورسٹی ہے جس کی بنیاد 1872ء میں رکھی گئی ہے اور دوسری لاسگین یونیورسٹی ہے جس کی بنیاد 1875ء میں رکھی گئی ہے لیکن بنیادی اعتراض یہ ہے کہ یہ یونیورسیٹییاں سب سے پرانی نہیں ہیں جبکہ ان میں سے بعض یونیورسٹی تو غیر ملکی ہے اور اس کی بنیاد عرب سرزمین پر رکھی گئی ہے۔
لیکن جس بات میں کوئی اختلاف نہیں ہے وہ ازہر یونیورسٹی کی بنیاد کی تاریخ ہے کیونکہ اس کی بنیاد مصر کے اندر فاطمیوں کے دور سنہ 970ء میں رکھی گئی ہے یعنی اس کی بنیاد دنیا کی دوسری یونیورسیٹیوں کے مقابلہ میں پہلے رکھی گئی ہے۔ اس کی بنیاد ابتدائی اور ثانوی مرحلوں کے طلبہ کی تعلیم کے لیے ایک مدرسہ کے طور پر رکھی گئی ہے اور طلبہ یہاں سے ازہری سند بھی حاصل کرتے ہیں۔ یہ سند اسلامی علوم کے مختلف تخصصات میں ہوتی ہے لیکن اب اس یونیورسیٹی میں حالیہ چند سالوں کے اندر علوم وآداب کے مختلف شعبے بھی کھول دئے گئے ہیں جیسے کہ معیشت، میڈیکل، انجینئرنگ اور زراعت وغیرہ کے شعبے اور اس یونیورسٹی کو سنہ 1961ء میں ایک سرکاری اکیڈمک یونیورسٹی کا مقام دے دیا گیا ہے۔
(چاری)