"بحر روم” کی جانب گزرگاہ کو محفوظ بنانے کا ایرانی منصوبہ
شامی حکومت کی طرف سے فلسطینی ملیشیا دیر الزور کی جانب روانہ لندن: "الشرق الاوسط” شامی مخالف جماعتوں کی "سپریم مذاکراتی کمیشن” نے یقین دہانی کی ہے کہ ایران نے بحر روم کی جانب زمینی گزر گاہ کو یقینی طور پر محفوظ بنانے کے لئے شام میں "دراندازی” میں اضافہ کر
شامی حکومت کی طرف سے فلسطینی ملیشیا دیر الزور کی جانب روانہ

لندن: "الشرق الاوسط”
شامی مخالف جماعتوں کی "سپریم مذاکراتی کمیشن” نے یقین دہانی کی ہے کہ ایران نے بحر روم کی جانب زمینی گزر گاہ کو یقینی طور پر محفوظ بنانے کے لئے شام میں "دراندازی” میں اضافہ کر دیا ہے۔ دریں اثناء شامی حکومت نے فلسطینی ملیشیاؤں کو دیر الزور شہر کی جانب روانہ کیا ہے۔
گذشتہ ہفتے جنیوا میں اقوام متحدہ کے ایلچی اسٹیفن ڈی مستورا کو "کمیشن” کی طرف سے پیش کی جانے والی دستاویز؛ "الشرق الاوسط” کو جس کی ایک کاپی مل گئی تھی، اس میں درج ہے کہ "شامی حکومت کے سربراہ کی منظوری کے بعد 6 اپریل کو شامی حکومتی فوج کی قیادت کی طرف سے ایک یادداشت جاری کی گئی ہے، جس کے مطابق شام میں ایرانی دراندازی کو بڑھانے کے لئے خاص طور سے "گورنریٹ کی سطح پر مقامی دفاعی رجمنٹوں” کے نام سے منسوب ٹیموں کو تشکیل دیا جائے گا جو اس کی فوج کے شانہ بشانہ لڑنے والی ایرانی افواج میں شامل ہوں گی۔ چنانچہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ شام میں ایران کی موجودگی کے اسٹریٹجک اہداف ہیں، ان میں مشرق وسطی کے علاقوں میں اپنے اثر و رسوخ کو وسعت دینا اور لبنان میں اپنے بازو "حزب اللہ” کے سپلائی روٹ کو محفوظ بنانا اور بحر روم پر مستقل بندرگاہ کو محفوظ بنانا ہے”۔
دوسری جانب اطلاع ملی ہے کہ "فلسطینی القدس بریگیڈ” کے گروپ دیر الزور کی جانب پیش قدمی کی تیاری کر رہے ہیں۔