مشرقی شام میں امریکی فوج کا حملہ اور "برکان البادیہ” نامی جنگ کا آغاز
بیروت: یوسف دیاب امریکہ کی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد نے داعش کو نشانہ بنانے کے ارادہ سے مشرقی شام میں حملہ کیا ہے اور ان فوج کے حملہ کی وجہ سے تنظیم کے 8 اہلکار کی موت ہو چکی ہے جبکہ اسی وقت "شامی آزاد فوج” نے شام، عراق اور اردن […]

بیروت: یوسف دیاب
امریکہ کی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد نے داعش کو نشانہ بنانے کے ارادہ سے مشرقی شام میں حملہ کیا ہے اور ان فوج کے حملہ کی وجہ سے تنظیم کے 8 اہلکار کی موت ہو چکی ہے جبکہ اسی وقت "شامی آزاد فوج” نے شام، عراق اور اردن کی سرحدوں سے ایرانی میلیشیاؤں کو بھگانے کے لئے "برکان البادیہ” نامی جنگ کا آغاز کر دیا ہے۔
شام کی اپوزیشن میڈیا کمیشن نے اطلاع دی ہے کہ اتحاد کے فورسز نے مشرقی دیر الزور کے تابع شہر بوکمال کے احاطہ میں واقع الحمضیہ علاقہ میں دوباره فضائی حملہ کیا ہے جس کی وجہ سے تنظیم داعش کے 8 اہلکار کی وفات ہو چکی ہے۔ پھر اسی وقت فرات پوسٹ کے ذمہدار احمد الرمضان نے واضح کیا ہے کہ دو امریکی ہیلی کاپٹروں نے یہ فضائی کاروائی کرکے داعش کے ساتھ کشمکش کی ہے جس کی وجہ سے داعش کے 8 اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔ امریکی وزارت دفاع کے ذرائع (پنٹاگون) نے اعلان کیا ہے کہ تنظیم داعش کے اہلکار نے دیر الزور کے علاقہ میں دو مہینوں سے اپنی جگہ بنا رکھی تھی اور اس نے پرزور انداز میں یہ بھی کہا ہے کہ سینکڑوں داعش کے اہلکاروں نے رقہ شہر کو چھوڑ کر دیر الزور کے مشرق جنوب میں 50 کیلو میٹر کی دوری پر میادین علاقہ کا رخ کیا ہے۔
بدھ 27 شعبان 1438 ہجری 24 مئی 2017ء شمارہ: (14057)