ٹرمپ کے فیصلہ کے فوری بعد کابل کے سفارتی علاقے میں قتل عام
كابل: "الشرق الاوسط” افغانستان کے دارالحکومت کابل کے سفارتی علاقے میں کل صبح رش کے اوقات میں ایک بڑا دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں بھاری جانی نقصان ہوا ہے۔ اس دھماکے میں ڈیڑھ ٹن وزنی دھماکہ خیز مواد والے بم کو استعمال کیا گیا جو جرمن سفارت خانے کے قریب […]

كابل: "الشرق الاوسط”
افغانستان کے دارالحکومت کابل کے سفارتی علاقے میں کل صبح رش کے اوقات میں ایک بڑا دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں بھاری جانی نقصان ہوا ہے۔ اس دھماکے میں ڈیڑھ ٹن وزنی دھماکہ خیز مواد والے بم کو استعمال کیا گیا جو جرمن سفارت خانے کے قریب ایک گندے پانی گٹر کے اندر رکھا گیا تھا۔ مقامی حکام کے مطابق ان دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 90 اور 300 سے زائد زخمی ہیں جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، جبکہ حکام نے خبردار کیا ہے کہ ابھی بھی لاشوں کی وصولی کا سلسلہ جاری ہے جس سے متاثرین کی تعداد میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کے مطابق متاثرین میں 11 امریکی شہری بھی شامل ہیں۔
اس حملے کے نتیجے میں مادی نقصان زیادہ تر غیر ملکی سفارت خانوں کو پہنچا جن میں جرمنی، فرانس، جاپان، ترکی، متحدہ عرب امارات، بھارت اور بلغاریہ شامل ہیں۔ تحریک طالبان نے ان حملوں کی ذمہ داری سے انکار کرتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔ جبکہ تنظیم داعش؛ جس نے گذشتہ مہینوں کے دوران کابل میں کئی خونریز حملے کیے، اس نے فوری طور پر کل کوئی موقف ظاہر نہیں کیا ہے۔
یاد رہے کہ یہ حملہ اس وقت میں ہوا ہے کہ جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ افغانستان میں مقامی فوج کو تربیت دینے کے لئے تین ہزار سے پانچ ہزار اضافی فوجیوں کو بھیجنے کی سفارش پر غور کر رہے تھے۔