دوحہ کی پالیسیاں اسے تنہائی میں غرق کر رہی ہیں
سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات، مصر اور یمن اس کے ساتھ تعلقات منقطع کر رہی ہیں – اور واشنگٹن کی قطر کے "رویوں” پر "تشویش” رياض ـ قاہرہ ـ منامہ ـ ابوظہبی: "الشرق الاوسط” کل سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، مصر اور یمن نے قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کر
سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات، مصر اور یمن اس کے ساتھ تعلقات منقطع کر رہی ہیں – اور واشنگٹن کی قطر کے "رویوں” پر "تشویش”

رياض ـ قاہرہ ـ منامہ ـ ابوظہبی: "الشرق الاوسط”
کل سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، مصر اور یمن نے قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کر دیئے اور دہشت گردی کی حمایت کرنے والی پالیسیوں کے پس منظر میں اس ملک کو تنہا کرنے کے لئے دیگر اقدامات اٹھائے۔ قطر کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات میں زمینی اور سمندری سرحدوں کو بند کرنے، فضائی حدود میں پروازوں پر پابندی سمیت افراد کی نقل و حرکت پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر میں موجود قطر کے سفارتی عملے کو 48 گھنٹوں کی مہلت میں ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا، جبکہ سعودیہ ، امارات اور بحرین نے قطر کے شہریوں کو 14 دنوں کے اندر ملک چھوڑے کا حکم دیا ہے اور انہوں نے اپنے شہریوں کو قطر جانے سے منع کر دیا ہے۔
ریاض نے "دوحہ کے حکام” پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ "خطے کے استحکام کو نشانہ بنانے والی جماعتوں اور متعدد فرقوں کو پناہ دے رہے ہیں، جن میں اخوان المسلمین، داعش اور القاعدہ شامل ہیں۔ علاوہ ازیں سعودیہ عرب اور بحرین میں "ایران کی حمایت یافتہ دہشت گرد جماعتوں کی سرگرمیوں” کی حمایت کرتے ہیں۔