گولان کی پہاڑیوں میں بین الاقوامی افواج کو مسلح کرنے پر غور
لندن: ابراہیم حميدی مغربی سفارتی ذرائع نے "الشرق الاوسط” کو یقین دہانی کی ہے کہ مغربی ممالک کی طرف سے ٹاسک میں تبدیلی کرتے ہوئے، گولان کی پہاڑیوں (Andov) میں موجود "جھڑپوں کو ختم کرنے والی بین الاقوامی افواج” کو مسلح کرنے کا رجحان پایا جاتا ہے، تاکہ وہ "شہریوں

لندن: ابراہیم حميدی
مغربی سفارتی ذرائع نے "الشرق الاوسط” کو یقین دہانی کی ہے کہ مغربی ممالک کی طرف سے ٹاسک میں تبدیلی کرتے ہوئے، گولان کی پہاڑیوں (Andov) میں موجود "جھڑپوں کو ختم کرنے والی بین الاقوامی افواج” کو مسلح کرنے کا رجحان پایا جاتا ہے، تاکہ وہ "شہریوں کی حفاظت” کر سکیں۔ یہ اس وقت ہو رہا ہے کہ جب امریکہ اور روس قنیطرہ اور درعا کے ایک حصے میں "پرامن علاقے” کے قیام کے لئے مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں۔
یاد رہے کہ واشنگٹن اور ماسکو جنوب میں پانچواں پرامن علاقہ قائم کرنے پر غور کر رہے ہیں، جو دیگر چار "پرامن” علاقوں سے مختلف ہو۔ واشنگٹن نے شرط عائد کی کہ اردن اور گولان کے قریب "ایرانی پاسداران انقلاب” کا وجود نہ ہو۔ دریں اثناء 1974 میں قائم کردہ ایک ہزار افراد پر مشتمل (Andov) افواج کے ٹاسک میں ترمیم کے بارے میں مذاکرات شروع ہو چکے ہیں۔