"داعش” کی جانب سے موصل کی جامع مسجد نوری اور اس کے تاریخی مینار تباہ
موصل: "الشرق الاوسط” کل تنظیم داعش نے عراق کے شہر موصل کے مرکز میں واقع جامع مسجد نوری اور اس کے تاریخی "حدبا” مینار کو تباہ کر دیا ہے۔ جبکہ عراقی افراج نے پرانے شہر کے وسط میں مسلح افراد کا محاصرہ کرنے کا حکم دیا تھا، جس پر تنظیم کو خطرہ تھا […]

موصل: "الشرق الاوسط”
کل تنظیم داعش نے عراق کے شہر موصل کے مرکز میں واقع جامع مسجد نوری اور اس کے تاریخی "حدبا” مینار کو تباہ کر دیا ہے۔ جبکہ عراقی افراج نے پرانے شہر کے وسط میں مسلح افراد کا محاصرہ کرنے کا حکم دیا تھا، جس پر تنظیم کو خطرہ تھا کہ یہ علاقہ ان کے کنٹرول سے نکل جائے گا جبکہ وہ 3 سالوں سے اس پر قابض تھی۔
"آ رہے ہیں نینوی” نامی آپریشن کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل عبد الامیر رشید یار اللہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ "دہشت گرد داعش کے گروہوں نے ایک اور تاریخی جرم کا ارتکاب کیا ہے اور یہ جامع مسجد نوری اور اس کے تاریخی مینار (حدبا) کو تباہ کرنا ہے۔ لیکن تنظیم کی طرف سے اس کی نیوز ایجنسی "اعماق” میں شائع ایک بیان میں دعوی کیا گیا ہے کہ "امریکی فضائی حملے میں مسجد اور مینار کو تباہ کیا گیا ہے”، باوجود اس کے کہ اس نے پہلے مینار کو تباہ کرنے کی دھمکی بھی دی تھی جس پر وہاں کے رہائشیوں نے انسانی ڈھال بنا کر انہیں اس کام سے منع کیا تھا۔
کل وفاقی پولیس فورس نے جامع مسجد نوری کی جانب پیش قدمی کی اور کہ وہ صرف 50 میٹر کے فاصلے پر تھی۔ یاد رہے کہ تنظیم کے رہنما ابوبکر البغدادی نے 3 سال قبل اسی مسجد کے منبر سے اپنی مبینہ "خلافت” کا اعلان کیا تھا۔