ٹرمپ کی جانب سے ایران کے بغیر پوٹن کی "شام روس” اجلاس کی دعوت قبول
ماسکو کے "استحکام کو خراب” کرنے والے رویے پر واشنگٹن کی تنقید ہمبرگ – ماسکو: "الشرق الاوسط" امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ہمبرگ میں گروپ بیس کے سربراہی اجلاس کے ضمن میں اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوٹن کے ساتھ دوطرفہ اجلاس کے موقع پر اعلان کیا ہے کہ "شام کو ای
ماسکو کے "استحکام کو خراب” کرنے والے رویے پر واشنگٹن کی تنقید

ہمبرگ – ماسکو: "الشرق الاوسط"
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ہمبرگ میں گروپ بیس کے سربراہی اجلاس کے ضمن میں اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوٹن کے ساتھ دوطرفہ اجلاس کے موقع پر اعلان کیا ہے کہ "شام کو ایک ایسے سیاسی حل کی ضرورت ہے جو ایران کو اپنے ایجنڈے کے حصول اور دہشت گردوں کو دوبارہ واپسی کی اجازت نہ دے”۔
ٹرمپ نے بدھ کی شام شروع ہونے والے اپنے چار روزہ یورپی دورے کے پہلے اسٹیشن وارسو میں اعلان کیا ہے کہ "امریکہ روس کے عدم استحکام کو حل کرنے کے لئے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے”۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہم روس سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ یوکرائن سمیت خطے کے دیگر ممالک میں عدم استحکام کی کاروائی بند کرے، اس کے علاوہ شام اور ایران میں اپنی دشمنانہ نظام حمایت کو بند کر کے ذمہ دار قوموں کے گروپ میں شامل ہو اور اپنی تہذیب کی حفاظت کی خاطر مشترکہ دشمنوں کو ختم کرے”۔
جبکہ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے ٹرمپ – پوٹن سربراہی اجلاس سے قبل اپنے جاری بیان میں واشنگٹن کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ "شام میں نوفلائی زون کے قیام، فائر بندی کے لئے نگرانوں کو پھیلانے اور انسانی بنیادوں پر امداد فراہم کرنے کی خاطر” ماسکو کے ساتھ تعاون کرنے کو تیار ہے۔