لبنان کی طرف سے عرسال کے معاہدہ میں آسانی اور "نصرہ” کی طرف سے رکاوٹ

بیروت: نذیر رضا وہ آسانیاں کامیاب نہ ہو سکیں جنہیں لبنانی حکومت نے "نصرہ فرنٹ” او "حزب اللہ” کے معاہدہ کے دوسرے مرحلہ کو نافذ کرنے کے لئے چار قیدیوں کو رہا کر کے فراہم کیا تھا اور یہ آسانیاں معاہدہ کی تکمیل کے سلسلہ میں رکاوٹوں کو ختم کرنے کے […]

لبنان کی طرف سے عرسال کے معاہدہ میں آسانی اور "نصرہ” کی طرف سے رکاوٹ

بیروت: نذیر رضا

وہ آسانیاں کامیاب نہ ہو سکیں جنہیں لبنانی حکومت نے "نصرہ فرنٹ” او "حزب اللہ” کے معاہدہ کے دوسرے مرحلہ کو نافذ کرنے کے لئے چار قیدیوں کو رہا کر کے فراہم کیا تھا اور یہ آسانیاں معاہدہ کی تکمیل کے سلسلہ میں رکاوٹوں کو ختم کرنے کے لئے فراہم کی گئی تھیں کیونکہ "نصرہ فرنٹ” نے چند رکاوٹیں پیدا کیی تھی جن کی وجہ سے پبلک سیکیورٹی کی ڈائریکٹر میجر جنرل عباس نے اعلان کیا تھا کہ لبانی حکومت نے "نصرہ فرنٹ” کی مطلوبہ شرطوں کو مسترد کر دیا ہے کیونکہ اس سے لبنانی حکومت کا احترام خطرہ میں پڑ رہا تھا۔

کل شام "این پی این” چینل نے جرود عرسال سے شہریوں اور مسلح افراد کو نکلنے کے لئے کئے جانے والے مذاکرات سے باخبر ذرائع کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ مذکرات ناکام ہو چکے ہیں اور ان معاملات کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا اور ان ذرائع نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ جن شرطوں نے مذاکرات کو پیچیدہ بنا دیا ہے ان میں نصرہ فرنٹ کا مولوی شادی اور ان کی جماعت کا عین الحلوہ خیمہ سے نکالے جانے کا مطالبہ کرنا ہے۔

بدھ– 10 ذو القعدة 1438 ہجری – 2 اگست 2017ء شمارہ: (14127)